مکہ دفاعی معاہدہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم سنگِ میل ہے: سعودی وزیر خارجہ

مکہ دفاعی معاہدہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم سنگِ میل ہے: سعودی وزیر خارجہ

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو امن، ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے مشترکہ مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط تینوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی کرتے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے، جو خطے کی سلامتی اور استحکام کو متاثر کرنے والے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ سیاسی عزم کی علامت ہے، جس کا مقصد ایک زیادہ محفوظ علاقائی ماحول کا قیام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین تاریخی دفاعی معاہدہ ہو گیا

شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ ایک محفوظ مستقبل کی بنیاد فراہم کرے گا، جس کے نتیجے میں ترقی، خوشحالی اور اقتصادی مواقع کو فروغ ملنے کی امید ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مکہ مکرمہ میں ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران طے پایا، جس میں تینوں ممالک نے مشترکہ سلامتی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مکہ کے قصر الصفا میں منعقدہ اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی ولی عہد اور ترک صدر نے قصر الصفا میں نماز جمعہ ادا کی

اجلاس کے دوران تینوں ممالک کی قیادت نے مشترکہ دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو مشترکہ دفاعی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔

Related Articles