پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایک تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی نئی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے معاہدے کی تقریب سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہوئی جہاں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے معاہدے پر دستخط کیے۔
سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ سیاسی، عسکری اور سفارتی حکام بھی شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ اجتماعی سلامتی (Collective Security) اور اجتماعی دفاعی مزاحمت (Collective Deterrence) کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اس کے تحت اگر کسی ایک رکن ملک کو بیرونی جارحیت یا سلامتی کے سنگین خطرے کا سامنا ہو تو اسے تینوں ممالک کی مشترکہ سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک یا اتحاد کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن استحکام اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جنگ کی حوصلہ شکنی کشیدگی میں کمی اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مؤثر بنانا ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے روابط تحریکِ خلافت کے دور سے قائم ہیں جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی، سیاسی، اقتصادی اور مذہبی تعاون ہمیشہ انتہائی مضبوط رہا ہے۔ حالیہ معاہدہ انہی تاریخی تعلقات کو باقاعدہ قانونی اور ادارہ جاتی شکل دیتا ہے۔
معاہدے کے تحت دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، دفاعی صنعت میں اشتراک، جدید ٹیکنالوجی، انسداد دہشت گردی، سائبر سکیورٹی اور علاقائی سلامتی سے متعلق مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
اس شراکت داری میں پاکستان کی پیشہ ور اور تجربہ کار مسلح افواج، سعودی عرب کی معاشی قوت، اسٹریٹجک حیثیت اور قیادت، جبکہ ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنائیں گی جس سے خطے میں ایک متوازن دفاعی فریم ورک وجود میں آئے گا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے مختلف تنازعات میں سفارتی کردار ادا کیا ہے جس کے بعد اس کی علاقائی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔
ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کو مسلم نیٹو قرار دینا درست نہیں ہوگا کیونکہ یہ کسی فوجی بلاک یا جارحانہ اتحاد کی تشکیل نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی علاقائی استحکام دفاعی خود انحصاری اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک غیر جارحانہ فریم ورک ہے جس کا مقصد خطے میں امن استحکام اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔