پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار پر مختلف حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تبصرے سامنے آ رہے ہیں، جہاں تجزیہ کار اور صارفین انہیں اس دفاعی تعاون کے اہم محرکین میں شمار کر رہے ہیں۔
مختلف تبصروں میں کہا جا رہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دفاعی روابط کو فروغ دینے اور تینوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ اس پیش رفت کو ان کے اسٹریٹجک وژن کا مظہر بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ کسی فوجی اتحاد یا نام نہاد “مسلم نیٹو” کے قیام سے متعلق نہیں، بلکہ اسے اجتماعی دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
معاہدے کے بنیادی نکات کے مطابق تینوں ممالک مشترکہ سلامتی، دفاعی تعاون، دفاعی صنعت میں اشتراک اور سکیورٹی سے متعلق باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس تناظر میں معاہدے کو اجتماعی دفاع اور مشترکہ بازدار صلاحیت کے اصولوں پر مبنی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے دفاعی تعاون کا مقصد خطے میں استحکام، امن اور سکیورٹی کو فروغ دینا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ سلامتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطوں کو مؤثر بنانا بھی اس کا اہم حصہ ہے۔
دوسری جانب مختلف سرکاری بیانات میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک یا فریق کے خلاف نہیں، بلکہ علاقائی امن، استحکام، خود انحصاری اور مشترکہ سلامتی کے فروغ کے لیے طے پایا ہے۔
دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق معاہدے کے عملی اثرات اور مستقبل میں اس کے تحت ہونے والے اقدامات سے خطے میں دفاعی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے طویل المدتی نتائج کا انحصار تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے عملی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی پر ہوگا۔