مکہ مکرمہ میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد ایک بار پھر برصغیر میں شاہ نعمت اللہ ولی رح کی غزوہ ہند کے متعلق 600 سال پرانی پیشن گوئیاں زیرِ بحث آ گئی ہیں۔ اس معاہدے نے ان حلقوں کے یقین کو مزید پختہ کر دیا ہے جو یہ مانتے ہیں کہ خطے میں ایک عظیم جنگ کی تیاریاں مکمل ہو رہی ہیں۔
گزشتہ روز مکہ مکرمہ میں ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ’ پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ ان تینوں میں سے کسی ایک ملک پر بھی مسلح حملہ تینوں ممالک پر مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ سعودی عرب کی مالی طاقت، ترکی کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی ایٹمی و عسکری قوت کا ایک بے مثال اور طاقتور امتزاج ہے۔
اس غیر معمولی پیش رفت کے بعد، شاہ نعمت اللہ ولی کی وہ مشہور زمانہ پیشن گوئی تکمیل کے قریب نظر آ رہی ہے جس میں انہوں نے صدیوں پہلے لکھا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد غزوہ ہند کا عظیم الشان معرکہ برپا ہوگا، اور اس فیصلہ کن جنگ میں ترکی، عرب، چین، افغان اور ایران پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ ترکی اور سعودی عرب (عرب خطے کی سب سے بڑی طاقت) کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے نے عملی طور پر اس اتحاد کی بنیاد رکھ دی ہے۔
مزید برآں، موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران کی بھارت سے دوریاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر مستقبل قریب میں ان شاء اللہ ایران بھی باقاعدہ طور پر اس دفاعی بلاک یا اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے، جو کہ شاہ نعمت اللہ ولی کی پیشین گوئیوں کا ایک اور اہم جزو ہے۔
عظیم صوفی بزرگ نے اپنی پیشین گوئیوں میں یہ بھی صراحت کی تھی کہ ہندوستان کے دو ٹکڑے ہوں گے اور اس کے ایک حصے میں مسلمانوں پر شدید مظالم ڈھائے جائیں گے، جس کو مسلمان انتہائی صبر اور استقامت سے برداشت کریں گے۔ آج بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اور ان کی استقامت، اس بات کی واضح مثال ہے کہ یہ پیشین گوئی کس طرح اپنے دورِ حاضر میں پوری ہو رہی ہے۔
شاہ نعمت اللہ ولی کی ان باتوں کا رد کرنے والے ناقدین اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ ان کی یہ پیشین گوئیاں آج سے تقریباً 150 سال پہلے لکھی ہوئی حالت میں منظر عام پر آئیں۔ تاہم، حیران کن امر یہ ہے کہ اگر اس دلیل کو تسلیم بھی کر لیا جائے، تب بھی ان کی ان تحریروں میں جنگ عظیم اول، جنگ عظیم دوم اور ہندوستان کی تقسیم کی بالکل درست نشاندہی موجود تھی، جو کہ ان کے منظر عام پر آنے کے کئی دہائیوں بعد وقوع پذیر ہوئیں۔
موجودہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات، خصوصاً پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا یہ تاریخی دفاعی اتحاد، اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ وہ بڑی جنگ جس کی بشارت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دی تھی، اب تیزی سے قریب آ رہی ہے۔ مسلمانوں کا عالمی سطح پر یکجا ہونا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔