وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ خطے کی سلامتی، امن اور استحکام کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت ہے، جس کے ذریعے تینوں ممالک نے اپنی سکیورٹی کوششیں یکجا کر دی ہیں۔
احسن اقبال نے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان میں آج تک تھرڈ ٹئیر آف گورنمنٹ قائم نہیں ہوسکی، جبکہ اختیارات کی مرکزیت کے باعث صوبائی سطح پر بھی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بااختیار مقامی حکومتوں کی ضرورت
احسن اقبال نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور میں بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کی بات کی ہے، تاہم اختیارات کو عوام کی دہلیز تک منتقل کرنے کے لیے بہتر انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا،انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت سے پورے صوبے کو مؤثر انداز میں چلانا ممکن نہیں، اس لیے انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ملک میں تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم ہونی چاہئیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم 12 سے 18 نئے انتظامی یونٹس بنانے پر غور کیا جانا چاہیے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اس لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔
18ویں ترمیم کے بعد کارکردگی
احسن اقبال نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد گزرنے والے 15 برسوں کے دوران سماجی شعبوں میں وہ قابلِ قدر پیش رفت نظر نہیں آئی جس کی توقع کی جارہی تھی،انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور آبادی جیسے شعبوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مؤثر انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
مکہ معاہدہ تاریخی سنگ میل
مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ تین اسلامی ممالک کے لیے تاریخی سنگ میل ہے،انہوں نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے۔
پاکستان کا نیا علاقائی کردار
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے کی سکیورٹی کے لیے اپنی کوششیں یکجا کر دی ہیں اور پاکستان ریجنل سیکیورٹی پرووائیڈر اور استحکام کے اینکر کے طور پر سامنے آ رہا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل آصف منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر اہم مقام حاصل کیا ہے۔