میٹرو بس سروس کے حوالے سے شہریوں کے لیے اہم خبر سامنے آگئی، سروس چلانے والی نجی کمپنی ویڈا نے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو آپریشنز معطل کرنے کا حتمی نوٹس دے دیا ہے۔
نجی کمپنی نے اپنے نوٹس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مالی وسائل ختم ہونے کے باعث موجودہ حالات میں میٹرو بس سروس کے آپریشنز جاری رکھنا ممکن نہیں رہا کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اگر ضروری وسائل اور خصوصاً فیول کی مسلسل فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو سروس کو مزید چلانا مشکل ہوگا۔
ویڈا کی جانب سے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو دیے گئے حتمی نوٹس کے مطابق لاہور میں تمام میٹرو بس آپریشنز 11 اگست 2026 سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کمپنی کا کہنا ہے کہ فیول کی بلا تعطل فراہمی آپریشنز جاری رکھنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے، تاہم اس معاملے کو تاحال حل نہیں کیا گیا۔
فیول کی فراہمی کا مسئلہ
ویڈا نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ فیول کی مسلسل فراہمی نہ ہونے کے باعث بسوں کا آپریشن متاثر ہو رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق موجودہ مالی صورتحال میں وہ اپنی طرف سے مسلسل فیول کے اخراجات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
نجی کمپنی نے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق فیول کی فراہمی کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ شہریوں کو فراہم کی جانے والی میٹرو بس سروس جاری رکھی جاسکے۔
عدالتی حکم کا حوالہ
ویڈا نے اپنے حتمی نوٹس میں عدالتی حکم کا بھی حوالہ دیا ہے، کمپنی کے مطابق اگر عدالتی ہدایات کے مطابق فیول کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو اس کے لیے میٹرو بس آپریشن جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا،کمپنی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سروس معطل کرنے کے علاوہ اس کے پاس فی الحال کوئی قابلِ عمل راستہ موجود نہیں۔
لاہور کی میٹرو بس سروس روزانہ بڑی تعداد میں شہریوں کو شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان آمدورفت کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ خصوصاً طلبہ، ملازمین اور کم آمدنی والے شہریوں کے لیے یہ سروس اہم سفری ذریعہ سمجھی جاتی ہے،اگر 11 اگست سے آپریشن واقعی معطل ہوگیا تو روزانہ میٹرو بس استعمال کرنے والے ہزاروں مسافروں کو متبادل ذرائع آمدورفت اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔
بڑا چیلنج
میٹرو بس آپریشن کی ممکنہ معطلی پنجاب حکومت اور پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے لیے بھی ایک بڑا انتظامی چیلنج بن سکتی ہےسروس کی بندش سے شہریوں کو سفری مشکلات کا سامنا ہونے کے ساتھ ساتھ لاہور کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے،اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور متعلقہ حکام ویڈا کے حتمی نوٹس کے بعد فیول کی فراہمی اور دیگر مالی معاملات کو کس طرح حل کرتے ہیں۔
آخری وقت میں فیصلہ متوقع
ویڈا کی جانب سے 11 اگست کی تاریخ مقرر کیے جانے کے بعد اب حکام کے پاس سروس کو معطل ہونے سے بچانے کے لیے محدود وقت باقی ہے، اگر فیول کی فراہمی اور کمپنی کے مالی مسائل حل نہ کیے گئے تو لاہور میں میٹرو بس سروس کے بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شہریوں کی نظریں اب پنجاب حکومت اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے آئندہ اقدامات پر ہیں کہ آیا دونوں فریق کسی حل پر پہنچ کر سروس کو جاری رکھتے ہیں یا 11 اگست سے میٹرو بس آپریشن واقعی معطل ہوجاتا ہے۔