گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال شروع، کراچی بندرگاہ اور پورٹ قاسم سے لوڈنگ بند

گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال شروع، کراچی بندرگاہ اور پورٹ قاسم سے لوڈنگ بند

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے حکومتی مطالبات تسلیم نہ ہونے پر ملک بھر میں ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے، جس کے بعد مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت اور بندرگاہوں سے سامان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹرز گزشتہ کافی عرصے سے حکومت کو اپنے مسائل سے آگاہ کر رہے تھے، تاہم مطالبات پر مؤثر پیش رفت نہ ہونے کے باعث ہڑتال کی نوبت آئی۔

حکومت سے مذاکرات ناکام

ملک شہزاد اعوان کے مطابق ہڑتال کی کال دیے جانے کے بعد حکومت نے دو روز قبل ٹرانسپورٹرز سے رابطہ کیا، جبکہ سندھ حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات ہوئے، تاہم یہ بات چیت کامیاب نہیں ہوسکی،ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہیں، جس کے باعث احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں :مذاکرات ناکام ، گڈز ٹرانسپورٹرز کا ملک گیر ہڑتال کا اعلان

آج سے لوڈنگ بند

صدر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے کہا کہ آج سے ملک بھر میں لوڈنگ بند کردی گئی ہےجو گاڑیاں پہلے سے راستے میں ہیں وہ کراچی پہنچیں گی، تاہم کراچی بندرگاہ اور پورٹ قاسم سے نئی لوڈنگ نہیں ہوگی،انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی تمام گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال شروع ہوچکی ہے اور مطالبات منظور ہونے تک اسے جاری رکھا جائے گا۔

پیٹرولیم قیمتوں پر اعتراض

ملک شہزاد اعوان نے مطالبہ کیا کہ روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا فیصلہ واپس لیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے،ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت قیمتوں میں کمی نہیں کرسکتی تو ٹرانسپورٹرز کو ریلیف دینے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس اور ٹول ٹیکس میں کمی کی جائے۔

استعفوں کا مطالبہ

صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے کہا کہ جن وزرا نے ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کے حوالے سے تحریری یقین دہانیاں کرائی تھیں، ان کے استعفوں کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ جب تک ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، ہڑتال جاری رہے گی۔

ہڑتال کے باعث ملک میں اشیائے ضروریہ اور دیگر سامان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ بندرگاہوں سے مال کی ترسیل رکنے کی صورت میں کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

editor

Related Articles