جنسی استحصال، نازیبا ویڈیوز اور بلیک میلنگ، کالعدم بی ایل اے کے قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والی بلوچ طالبہ کا بیان سامنے آگیا

جنسی استحصال، نازیبا ویڈیوز اور بلیک میلنگ، کالعدم بی ایل اے   کے قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والی بلوچ طالبہ کا بیان سامنے آگیا

کالعدم بی ایل اے کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والی بلوچستان کے ضلع خضدار کی طالبہ کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس وہ بتا رہی ہے کہ اسے سوشل میڈیا کے ذریعے دوستی کے جال میں پھنسانے کے بعد اغوا کیا گیا جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا اور نازیبا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرکے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے لیے کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔

طالبہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ اسے اپنے کالج کے ایک لڑکے کی جانب سے سوشل میڈیا پر دوستی کا پیغام موصول ہوا، جس کے بعد دونوں کے درمیان کچھ دن تک بات چیت ہوتی رہی۔ طالبہ کے مطابق بعد ازاں وہ مذکورہ لڑکے سے کالج کے قریب ملنے گئی، جہاں سے اسے اغوا کرلیا گیا۔

طالبہ نے مزید کہا کہ اغوا کے بعد اس کا جنسی استحصال کیا گیا اور اس کی نازیبا ویڈیو بنائی گئی۔ بعد ازاں اسی ویڈیو کو بنیاد بنا کر اسے بلیک میل کیا گیا اور اس پر کالعدم بی ایل اے کے لیے کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 10 دہشتگرد ہلاک، 12 مشتبہ افراد گرفتار، کیپٹن شہید

اس نے مزید بتایا کہ ایک روز موقع ملنے پر وہ کالعدم تنظیم کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی، جس کے بعد اس نے اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ طالبہ کے مطابق اس کے والد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا، جنہوں نے اسے محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

ویڈیو پیغام کے ساتھ سامنے آنے والے دعوؤں میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ کالعدم بی ایل اے معصوم بلوچ لڑکیوں کو ورغلا کر اپنے جال میں پھنساتی ہے، ان کا جنسی استحصال کرکے ویڈیوز بناتی ہے اور پھر انہی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرکے انہیں خودکش حملہ آور بننے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایسی سینکڑوں لڑکیاں اس صورتحال کا شکار ہیں اور انہیں اس چنگل سے نکالنے کی ضرورت ہے۔

Related Articles