بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 10 دہشتگرد ہلاک، 12 مشتبہ افراد گرفتار، کیپٹن شہید

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 10 دہشتگرد ہلاک، 12 مشتبہ افراد گرفتار، کیپٹن شہید

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشن رَدالفتنہ کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 10 دہشت گرد ہلاک، 12 مشتبہ افراد گرفتار اور 4 دہشت گرد زخمی ہوگئے، جبکہ ہنگو میں آپریشن کے دوران 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم شہید ہوگئے۔

ہنگو میں 7 دہشتگردوں کا خاتمہ کیا گیا، جبکہ آپریشن ردلفتنہ کےدوران بلوچستان میں کمبیلہ اور عاصم آباد کے علاقوں میں سرچ اینڈ سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران 3 دہشت گرد مارے گئے۔ کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ، اسلحہ و گولہ بارود برآمد اور 68 مربع کلومیٹر علاقہ کلیئر کیا گیا۔

ہنگو میں خفیہ اطلاع پر بڑا آپریشن، 7 دہشت گرد ہلاک

خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 7 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں جوانوں کی قیادت کرنے والے 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم نے جامِ شہادت نوش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں مختلف کارروائیاں، فتنہ الخوارج کے 10دہشتگرد ہلاک

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ہنگو میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران دہشتگردوں اور فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

کارروائی کے دوران دہشتگردوں نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک مسجد میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے مسجد میں چھپے دہشتگردوں کو بھی ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے عبادت گاہ کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا مسجد کی حرمت کی صریح پامالی ہے۔

جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے کیپٹن حمزہ اکرم شہید

ہنگو آپریشن کے دوران کیپٹن حمزہ اکرم نے اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے بہادری کا مظاہرہ کیا اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں جامِ شہادت نوش کیا۔27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم کا تعلق ضلع نارووال سے تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق انہوں نے اپنے جوانوں کی قیادت فرنٹ لائن سے کی اور دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے وطن کے دفاع میں اپنی جان قربان کردی۔

ان کی شہادت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب سیکیورٹی فورسز خیبرپختونخوا کے حساس علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہیں۔

دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق مارے گئے دہشتگرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے خلاف مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔

اس لیے ہنگو آپریشن کو صرف ایک محدود کارروائی کے بجائے دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ میں ایف سی پوسٹوں پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا مشترکہ حملہ ناکام، 3 دہشت گرد ہلاک

آپریشن کے بعد علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے امکانات کے پیش نظر کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔

بلوچستان میں بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی

دوسری جانب آپریشن درلفتنہ 2 کے دوران بلوچستان کے علاقوں کمبیلہ اور عاصم آباد میں سیکیورٹی فورسز نے سرچ اینڈ سینیٹائزیشن کارروائی کی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 3 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ 2 لاشیں بھی برآمد کی گئیں۔ کارروائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 68 مربع کلومیٹر علاقے کو کلیئر کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشتگرد زخمی بھی ہوئے، جن میں دہشت گرد گروہ کا سرغنہ شوکت ماما بھی شامل ہے۔

12 مشتبہ افراد حراست میں، دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم

ذرائع کے مطابق بلوچستان میں ہونے والے سرچ اینڈ سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ دہشت گردوں کی متعدد پناہ گاہیں ختم کردی گئیں۔

کارروائی کے دوران فتنۃ الہندوستان کے جھنڈے بھی اتار دیے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں دہشتگردوں کے ممکنہ نیٹ ورک، سہولت کاروں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے کارروائی مزید آگے بڑھائی جائے گی۔

بلوچستان میں اس نوعیت کی کارروائیاں اس وسیع تر انسداد دہشتگردی مہم کا حصہ ہیں جس میں سیکیورٹی فورسز انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

رواں سال بھی بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف متعدد کارروائیوں میں ہلاکتوں اور اسلحہ و بارود کی برآمدگی کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔

ایک ہی وقت میں 2 حساس محاذوں پر کارروائیاں

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی تازہ کارروائیوں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں صوبوں میں مختلف نوعیت کے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی گئی۔

خیبرپختونخوا میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائی کی گئی، جہاں دہشتگردوں نے فائرنگ کے دوران مسجد میں پناہ لینے کی کوشش کی، جبکہ بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان سے وابستہ عناصر کے خلاف سرچ اینڈ سینیٹائزیشن آپریشن کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنوں میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 5 فتنہ الخوارج دہشت گرد ہلاک

یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو بیک وقت مختلف علاقوں اور مختلف دہشت گرد گروہوں سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایسے حالات میں انٹیلی جنس کی بروقت فراہمی، دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان رابطہ انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔

مسجد کو پناہ گاہ بنانا، دہشتگردوں کی حکمت عملی کا خطرناک پہلو

ہنگو آپریشن کا سب سے حساس پہلو دہشت گردوں کا مسجد میں پناہ لینا ہے۔ عبادت گاہ کو فائرنگ سے بچنے یا سیکیورٹی فورسز سے چھپنے کے لیے استعمال کرنا نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہے بلکہ اس حکمت عملی سے عام شہریوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

دہشت گرد تنظیمیں ماضی میں بھی شہری آبادی، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات کو اپنی کارروائیوں یا نقل و حرکت کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایسے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے لیے آپریشن مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے، کیونکہ ایک طرف دہشت گردوں کا خاتمہ مطلوب ہوتا ہے اور دوسری طرف شہریوں اور مقدس مقامات کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوتا ہے۔

صرف ہلاکتیں نہیں، نیٹ ورک توڑنا اصل کامیابی ہوگی

تازہ کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کی اہمیت صرف 10 دہشتگردوں کی ہلاکت تک محدود نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب ان کارروائیوں سے دہشتگردوں کے تنظیمی ڈھانچے، نقل و حرکت، اسلحہ کی ترسیل، مالی معاونت اور مقامی سہولت کاری کے نیٹ ورک کو بھی توڑا جائے۔

ہنگو میں 7 دہشتگردوں کی ہلاکت ایک اہم آپریشنل کامیابی ہے، لیکن سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن جاری رہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کارروائی کو صرف ابتدائی مرحلے تک محدود نہیں رکھا گیا۔ ایسے آپریشنز میں باقی ماندہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں تک پہنچنا بھی بنیادی مقصد ہوتا ہے۔

بلوچستان میں 68 مربع کلومیٹر علاقے کی کلیئرنس، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ اور 12 مشتبہ افراد کی گرفتاری بھی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اگر حراست میں لیے گئے افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مزید سہولت کاروں اور پناہ گاہوں تک پہنچا جائے تو اس کارروائی کے نتائج کئی گنا زیادہ مؤثر ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:فتنہ الخوارج کا سہولت کار خود ساختہ مولوی ظفریاب گرفتار ، تفتیش میں اہم انکشافات

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی تازہ کارروائیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف سیکیورٹی آپریشنز کا سلسلہ پوری شدت سے جاری ہے۔

ہنگو میں 7 دہشت گردوں کی ہلاکت، بلوچستان میں 3 دہشت گردوں کا خاتمہ، 12 مشتبہ افراد کی گرفتاری اور بڑے رقبے کی کلیئرنس اہم پیش رفت ہے۔

تاہم اس کامیابی کے ساتھ کیپٹن حمزہ اکرم کی شہادت ایک گہرا قومی نقصان بھی ہے۔ ان کی قربانی اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کی مسلسل جدوجہد اس جنگ کی قیمت واضح کرتی ہے۔

اب اصل امتحان یہ ہے کہ حالیہ کارروائیوں سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس اور آپریشنل کامیابی کو کس حد تک دہشت گرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

 دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کرنا، سہولت کاروں تک پہنچنا اور کلیئر کیے گئے علاقوں میں مستقل امن قائم رکھنا ہی اس مہم کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ ہوگا۔

Related Articles