وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں جیسے ہی تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہوں گی، وزیراعظم شہباز شریف اس کا فائدہ عوام کو منتقل کریں گے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرول کی وجہ سے عوام کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا عہد ہے کہ وہ ایسے فیصلے کریں گے جو پاکستان کی عزت عالمی دنیا میں بڑھائیں،انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی اس کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ تیل کی قیمت آج 114 ڈالر ہے، جبکہ ڈیزل 114 ڈالر سے بڑھ کر 160 ڈالر پر پہنچ گیا ہے،ا نہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر کمی کی ہے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ 60 لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں رجسٹرڈ کروائی ہیں،انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جن کے پاس 20 سال پرانی موٹر سائیکلیں ہیں، ان کی تعداد بھی تقریباً 60 لاکھ ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم اور موجودہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی،ان کا کہنا تھا کہ اگر 10 ماہ تک اس نظام کو چلانا پڑا تو حکومت اپنے بجٹ سے 400 سے 500 ارب روپے تک کم کرکے یہ رقم عوام پر خرچ کرے گی۔علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم کو عوام کی تکلیف اور مشکلات کا احساس ہے اور حکومت وہ کام نہیں کرے گی جو 2022 میں سابق حکومت نے کیا تھا۔
پی ٹی آئی پر تنقید
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان سے بڑھ کر نہ کسی کا وجود ہے اور نہ سیاست ہے،ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرکے کسی کو آزاد کروایا جاسکتا ہے تو ریاست اتنی کمزور نہیں ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف نے اسمبلی کے فلور پر محمود خان اچکزئی کو خط لکھا تھا،انہوں نے سوال کیا کہ کیا آج یہ وقت نہیں کہ ہر شخص اپنے اپنے مورچوں پر جاکر اپنی ذمہ داری احسن انداز میں ادا کرے؟ان کا کہنا تھا کہ کیا آج وقت کا تقاضا نہیں کہ سہیل آفریدی شہداء کے گھروں میں جائیں۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ انہیں صرف یہ خدشہ ہے کہ اس لاپروائی میں ریاست کو کوئی خطرہ نہ پہنچ جائے،انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اپنی باہمی لڑائیوں میں پڑنا مناسب نہیں۔
علی پرویز ملک نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کا بھی ذکر کیاانہوں نے کہا کہ واقعے میں 13 سے 14 اموات ہوئیں، جبکہ ریسکیو 1122 کی گاڑیوں پر بھی حملہ کیا گیا۔ بنوں اور دیگر مقامات پر بھی اموات ہوئیں۔