بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ’شعبان‘، 96 گھنٹوں میں 71 سے زیادہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد ہلاک

بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ’شعبان‘، 96 گھنٹوں میں 71 سے زیادہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد ہلاک

پاک فوج نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ’آپریشن شعبان‘ اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران گزشتہ 96 گھنٹوں میں 71 سے زیادہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو ہلاک کر کے بھارتی حمایت یافتہ افغان پراکسیز کو کاری ضرب لگائی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے ضلع شعبان اور ملحقہ علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر 21 ستمبر 2026 کو ’آپریشن شعبان‘ کا آغاز کیا۔

یہ بھی پڑھیں:کوہاٹ خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری، دہشتگرد بارود سے بھری گاڑی اور رکشے میں پہنچے، تفتیشی حکام

اس کارروائی کا بنیادی مقصد مقامی آبادی کو ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کے شرپسندوں سے محفوظ رکھنا تھا۔

اس آپریشن کے دوران فورسز نے شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ابتدائی طور پر 33 دہشتگردوں کو ہلاک کرتے ہوئے ان کے متعدد ٹھکانوں کو کلیئر کیا۔

ہلاک ہونے والے ان دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

آپریشن میں تیزی اور مزید ہلاکتیں

گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران اس آپریشن کو مزید تیز کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید 23 شرپسند مارے گئے۔

سیکیورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو دہشتگردوں کے قبضے سے چھڑا کر مقامی کمیونٹی کو ان کے خطرے سے نجات دلائی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشتگردی کے اس ناسور کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشنز پوری طاقت کے ساتھ جاری رہیں گے۔

نوشکی اور مند میں کامیاب آپریشنز

علاوہ ازیں 25 ستمبر 2026 کو ضلع نوشکی میں کی گئی ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں فورسز نے ایک ٹھکانے کو کامیابی سے نشانہ بناتے ہوئے 11 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔

اسی طرح، مند کے علاقے میں کی گئی ایک الگ کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے ’فتنہ الہندوستان‘ کے 6 دہشتگرد ہلاک کیے اور وہاں سے بھی بھاری تعداد میں اسلحہ و بارود برآمد کیا۔ ان تمام کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر 71 سے زیادہ دہشتگردوں کا صفایا کیا جا چکا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، جسے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی مالی و لاجسٹک معاونت حاصل ہے۔

مزید پڑھیں:بلوچستان، کلچاس کیمپ پر فائرنگ کے بعد سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 8 دہشتگرد ہلاک، 7 گرفتار، اسلحہ برآمد

نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی نے اسی تناظر میں ملکی سلامتی کے لیے ’عزمِ استحکام‘ نامی جامع انسدادِ دہشتگردی مہم کی منظوری دی تھی۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ملک سے غیر ملکی پشت پناہی میں چلنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس کا بلاتفریق اور مکمل خاتمہ ہے۔

آپریشنز کی اسٹرٹیجک اہمیت

بلوچستان میں اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی یہ کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ریاست نے دہشتگردی کے خلاف اب جارحانہ اور فعال حکمتِ عملی اپنا لی ہے۔

محض 96 گھنٹوں کے قلیل وقت میں 71 سے زیادہ تربیت یافتہ جنگجوؤں کی ہلاکت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ سیکیورٹی اداروں کی انٹیلی جنس صلاحیتوں اور فیلڈ آپریشنز کے درمیان بہترین ہم آہنگی کا واضح ثبوت ہے۔

بھارتی حمایت یافتہ افغان پراکسیز کو ان کے محفوظ ٹھکانوں کے اندر براہِ راست نشانہ بنانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اب دشمن کو منظم ہونے کا موقع فراہم نہیں کر رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملے کی مذمت

’عزمِ استحکام‘ کے تحت ہونے والے یہ آپریشنز نہ صرف مقامی آبادی کا ریاست پر اعتماد بحال کریں گے، بلکہ خطے میں تخریب کاری کا کھیل کھیلنے والی غیر ملکی قوتوں کے لیے بھی یہ ایک دو ٹوک پیغام ہے کہ پاکستان کے اندر ان کے بچھائے گئے نیٹ ورکس کو تیزی اور بے رحمی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔

Related Articles