گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے عہدے سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی جارہے ہیں یا کوئی اور آرہا ہے، اس بارے میں ان کی پارٹی کے ترجمان ہی بتا سکتے ہیں، اگر کسی کا استعفیٰ آیا تو وہ اسے منظور کرلیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے جانے یا کسی اور کے آنے سے متعلق وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، اس بارے میں پی ٹی آئی کے ترجمان ہی بہتر بتا سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر کسی کا استعفیٰ ان کے پاس آتا ہے تو وہ اسے منظور کرلیں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران کئی مرتبہ گورنر راج لگانے کی بات کی گئی ہے،انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج اور مارچ کی تاریخ تبدیل ہونے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ مارچ کے لیے تاریخ پھر تبدیل ہوگی، یہ تاریخ پر تاریخ والا معاملہ بن چکا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں روزانہ لاشیں اٹھائی جارہی ہیں، ایسے حالات میں اسلام آباد پر چڑھائی مناسب نہیں،ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد چڑھائی کا نتیجہ صفر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں :صوبہ دہشت گردوں کے حوالے ہے،پی ٹی آئی کا فوکس اڈیالہ اور ڈی چوک ہے ،گورنر خیبر پختونخوا
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت خود ساختہ روپوشی اختیار کرکے گرفتاریاں دے رہی ہے،انہوں نے کہا کہ اگر تمام لوگ مل بیٹھ کر کام کریں تو صوبے میں امن قائم ہوسکتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر کام کرنا ہوگا،ان کا کہنا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں کی سہولت کاری کررہا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے بتایا کہ صوبے کے مفاد کے لیے انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں پشاور آنے کی دعوت دی،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے امن و امان سے متعلق کابینہ اجلاس اور ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی پشاور میں بلانے کی درخواست کی ہے۔


