امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جلد ہار مان جائے گا اور اس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی،ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات موجود ہیں اور امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے تہران کے ساتھ مزید بات چیت کرسکتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم تہران جن شرائط کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، وہ امریکا کو قابل قبول نہیں ہیں، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے رابطے کا امکان برقرار ہے، ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع رکھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے ریکارڈ مقدار میں تیل منتقل ہوا،جنگ شروع ہونے کے بعد ایک ہی رات میں سب سے زیادہ مقدار میں تیل آبنائے ہرمز سے گزرا، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی پر دباؤ کم ہونے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
تیل کی قیمتیں کم ہونے کا دعویٰ
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے جلد ہار ماننے کے بعد تیل کی قیمتیں گر جائیں گی۔ انہوں نے امریکا میں موجودہ تیل کی قیمتوں کا سابق صدر جو بائیڈن کے دور سے بھی موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں تیل اب بھی بائیڈن دور حکومت کے مقابلے میں سستا ہے۔
ایران کی تجویز مسترد
ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کے لیے سات روزہ منصوبہ امریکا کے ذریعے ثالث قطر کو دیا تھا، تاہم ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران اب بھی سفارتی حل کے لیے تیار ہے۔
مذاکرات کی نئی کوشش
دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود نئے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، قطر سمیت علاقائی ثالث امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی منتقلی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور اس میں کشیدگی عالمی تیل کی منڈی کو براہ راست متاثر کرسکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس راستے سے تیل کی ترسیل میں کچھ اضافہ رپورٹ ہوا ہے، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔