مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان جاری اختلافات، شاندانہ گلزار بھی کود پڑیں

مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان جاری اختلافات، شاندانہ گلزار بھی کود پڑیں

مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان جاری اختلافات میں رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار بھی شامل ہوگئیں اور انہوں نے سلمان اکرم راجہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں باہمی اتفاق کی ضرورت ہے اور یہ وقت عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں کرنے کا ہے۔

شاندانہ گلزار نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’راجہ صاحب بہت غلط بات کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ یہ بتا دیں کہ قیدیوں کے لیے امریکہ سے آنے والے 50 کروڑ روپے کس نے خرچ کیے تو اس کا جواب کون دے گا۔

شاندانہ گلزار نے مزید کہا کہ اگر وہ یہ بتائیں کہ علی امین کی جانب سے دیے گئے 40 کروڑ روپے کہاں گئے تو پھر کسی کے پاس جواب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتفاق کا وقت ہے اور عمران خان کی رہائی کا وقت ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کے پاس پارلیمانی نشستیں ہیں۔

شاندانہ گلزار نے کہا کہ محسن عزیز اور اعظم سواتی نے ان کے الیکشن لڑنے میں مالی معاونت فراہم کی، کیونکہ وہ الیکشن سے چند دن قبل ہی جیل سے واپس آئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: وہ کونسا زہریلا مواد ہے جس نے ایک عام تحریک انصاف کے کارکن کو دہشتگرد بننے پر مجبور کیا؟ آزاد ڈیجیٹل حقائق سامنے لے آیا

سلمان اکرم راجہ نے مشال یوسفزئی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں سیاست میں پیسہ کمانے نہیں آیا، آخری ٹیکس ریٹرن میرا تیس کروڑ کا تھا۔ پچھلے تین سال میں میں نے ایک مقدمہ نہیں لڑا۔ میں اس ملک کے امیر ترین وکلاء میں سے تھا، شاید آج بھی ہوں۔ کیا میں نے ٹکٹس بیچ کر روزی کمانی تھی؟

انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کو مقدمہ کرنے کے لیے چار آنے بھی کوئی نہیں دیتا، اگر وہ تہمت لگائیں گے تو اس کا نقصان ان کے مطابق الزام لگانے والوں کو ہوگا۔

سینیٹر مشال یوسفزئی نے واٹس ایپ گروپ میں گفتگو کے دوران سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے پارلیمنٹیرینز کے کردار پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹیرینز کا اصل کام عدالتوں کے اندر نہیں بلکہ عدالتوں کے باہر ہے، جبکہ عدالت کے اندر دباؤ بار کونسل کے ارکان کو بنانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف میں اختلافات بڑھنے لگے، مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ آمنے سامنے، ایک دوسرے پر الزامات

مشال یوسفزئی نے الزام عائد کیا کہ بعض افراد کو مبینہ طور پر پیسے لے کر پارٹی ٹکٹ دیے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سازشوں اور گروپ بندی کے ذریعے ایسے وکلا کو ممبر بنایا گیا جن کا آئی ایل ایف سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

Related Articles