کراچی میں ایم کیو ایم کا بڑا جلسہ، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ گیا

کراچی میں ایم کیو ایم کا بڑا جلسہ، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ گیا

کراچی کے سرجانی ٹاؤن میں ایم کیو ایم پاکستان کے جلسے میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا، جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت نئے صوبوں کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک کا حصہ بنے گی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے لیکن ملک میں اب بھی صرف چار صوبے ہیں، موجودہ حالات میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نئی حد بندی کی ضرورت نہیں بلکہ موجودہ ڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دیا جائے تاکہ انتظامی امور بہتر انداز میں چلائے جاسکیں۔

33 صوبوں کی تجویز

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں مجموعی طور پر 33 صوبے ہونے چاہئیں اور اسلام آباد کو بھی صوبے کا درجہ دیا جانا چاہیے ،انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 10 جبکہ بلوچستان میں 8 ڈویژنز ہیں، اسی طرح ملک کے دیگر صوبوں کے ڈویژنز کو بھی انتظامی یونٹس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :25 کروڑ آبادی کے لیے نئے انتظامی یونٹس ناگزیرہیں، صوبہ ہزارہ ضرور بننا چاہیے،سردار محمد یوسف

اختیارات نچلی سطح تک منتقل کریں

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے آئینی مسودہ اور ایجنڈا پیش کیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے اس کی حمایت نہیں کی،ان کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے دوران بھی ایم کیو ایم کے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

ہر تحریک کا حصہ بنیں گے

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اب ایم کیو ایم انتظامی یونٹس کے قیام کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرے گی اور ملک میں نئے صوبوں کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک کا حصہ بنے گی۔

فنڈز کا معاملہ

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق کی جانب سے 8 ہزار 884 ارب روپے صوبوں کو منتقل کیے گئے، تاہم ان کے مطابق یہ رقم چار وزرائے اعلیٰ کے پاس چلی گئی،انہوں نے سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، جبکہ کراچی میں بچے گٹروں میں گر کر جاں بحق ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایم کیو ایم کا 18 ویں ترمیم رول بیک کرنے کا مطالبہ، ترمیم کے بعد صوبے ریاست بن چکے ہیں، خواجہ اظہار

مسئلہ انتظامی نظام کا ہے

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ کے عوام کو کسی دوسرے صوبے کی ایک انچ زمین بھی دینے کی ضرورت نہیں، اصل مسئلہ انتظامی نظام کا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت چار وزرائے اعلیٰ کے ذریعے چلایا جارہا ہے اور اگر حکمران عوام کے مسائل حل نہیں کریں گے تو انہیں آئندہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کا سامنا کرنا ہوگا،مصطفیٰ کمال کے خطاب کے بعد نئے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔

editor

Related Articles