کشمیریوں کا یومِ سیاہ، عالمی برادری سے بھارتی قبضے کے خلاف عملی اقدام کا مطالبہ

کشمیریوں کا یومِ سیاہ، عالمی برادری سے بھارتی قبضے کے خلاف عملی اقدام کا مطالبہ

بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں کشمیری عوام آج بھارتی قبضے کے خلاف یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔ یومِ سیاہ منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کرانا ہے کہ بھارت گزشتہ 78 برسوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت دینے سے مسلسل انکاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کا جبری تسلط جاری، کشمیری عوام آج پوری دُنیا میں حق خودارادیت بنا رہے، تقریبات، ریلیاں منعقد

میڈیا رپورٹس کے مطابق آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھارت مخالف مظاہرے، احتجاجی ریلیاں اور جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس، پاسبانِ حریت اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کے زیرِ اہتمام نکالی جانے والی ریلیوں میں کشمیری عوام بڑی تعداد میں شریک ہو کر بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ مظاہرین بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے بھارتی مظالم کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور اقوامِ متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو عملاً ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی کے نام پر سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ ہے، ہزاروں کی تعداد میں قابض بھارتی افواج تعینات کی گئی ہیں جبکہ شہریوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں، جدید نگرانی کے نظام اور ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اہم شاہراہوں، گلی محلوں اور حساس علاقوں کو خاردار تاروں اور رکاوٹوں کے ذریعے بند کر دیا گیا ہے۔

مقبوضہ وادی میں گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی کا سلسلہ غیر معمولی حد تک تیز کر دیا گیا ہے جس کے باعث عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بھارتی فورسز کی مسلسل نگرانی، چھاپوں اور ناکہ بندیوں نے کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور دفاتر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:افغان قیادت نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی سے غداری کر کے امت مسلمہ کا دل دکھایا ہے، صدر آصف علی زرداری

یاد رہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں، جبکہ آزادی کے مطالبے پر گزشتہ 36 برسوں میں 96 ہزار 481 کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ ان مظالم کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں اور صرف تین دہائیوں میں 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق قابض بھارتی افواج نے گزشتہ تین دہائیوں میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد کشمیریوں کو بلاجواز حراست میں لیا، جبکہ کھربوں روپے مالیت کی نجی املاک کو بھی تباہ و برباد کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل مقبوضہ کشمیر میں معمول بن چکے ہیں۔

علاوہ ازیں بھارت جعلی ڈومیسائل قوانین کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی منظم کوششیں کر رہا ہے، جسے کشمیری عوام اپنی شناخت اور وجود پر براہِ راست حملہ قرار دے رہے ہیں۔

یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو کشمیریوں پر مظالم بند کرنے پر مجبور کرے، مقبوضہ کشمیر سے فوجی انخلا کو یقینی بنائے اور کشمیری عوام کے حق میں اقوامِ متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر فوری اور عملی طور پر عملدرآمد کروایا جائے۔

Related Articles