ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے جائز حقوق کے حصول تک مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایرانی جنرل اسٹاف کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی مکمل شکست اور دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔
ایرانی مسلح افواج کی جانب سے یہ بیان ایران عراق جنگ کے دوران قید رہنے والے ایرانی شہریوں کی وطن واپسی کی سالگرہ کے موقع پر جاری کیا گیا۔ بیان میں آٹھ سالہ جنگ کو ایرانی عوام کی استقامت اور قومی وقار کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس دور کی مزاحمت کا ورثہ نئی نسل تک منتقل ہو چکا ہے۔
جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا کہ ایرانی نوجوانوں نے جدید ترین اسلحے سے لیس طاقتور فوج کے مقابلے میں مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ایرانی فوجی قیادت نے عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج اپنے قومی مطالبات اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی۔
بیان میں امریکا پر خطے میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات جاری رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق جنگ بندی کے باوجود ملک اپنے بنیادی مطالبات سے دستبردار نہیں ہوگا اور مزاحمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ایرانی مسلح افواج نے مزید کہا کہ ملک کی نئی نسل ماضی کی مزاحمت سے حوصلہ حاصل کر رہی ہے۔ جنرل اسٹاف کے مطابق ایران اپنی خودمختاری اور قومی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور دشمن کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنی پالیسی پر قائم رہے گا۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف مکمل فتح کا دعویٰ ایرانی مسلح افواج کا مؤقف ہے اور اسے آزادانہ طور پر ثابت شدہ فوجی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔