عمران خان کو شفا اسپتال کب منتقل کیا جائے گا؟ اہم خبر سامنے آگئی

عمران خان کو شفا اسپتال کب منتقل کیا جائے گا؟ اہم خبر سامنے آگئی

بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی آج رات اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کا امکان ہے، جس کے پیش نظر اسپتال میں سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی منتقلی سے قبل اسپتال کے کمرے اور دیگر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ مکمل کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان کی اسپتال منتقلی کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں اور جیل انتظامیہ کی جانب سے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ شفا اسپتال میں پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہوں گے، جبکہ عمران خان کے کمرے کی سیکیورٹی جیل انتظامیہ کے اہلکار سنبھالیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں عمران خان کے کمرے کے اندر بھی جیل رولز پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ سیکیورٹی اداروں اور جیل انتظامیہ کے اہلکار اسپتال میں موجود رہیں گے اور عمران خان کی منتقلی کے حوالے سے ضروری سیکیورٹی انتظامات برقرار رکھے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان کی منتقلی سے قبل اسپتال کے کمرے کی سیکیورٹی چیک کرلی گئی ہے۔ کمرے سمیت اسپتال کی مجموعی سیکیورٹی کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کا بھی بڑا اعلان

ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کو آج رات کسی بھی وقت اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج سے متعلق درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے انہیں دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے حکومت کو عمران خان کی گرفتاری سے اب تک کا مکمل میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔ میڈیکل بورڈ میں جنرل سرجن، ماہر امراضِ داخلی، ماہر امراضِ چشم اور ماہر امراضِ قلب شامل ہوں گے۔

عدالت نے ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے عمل سے منسلک رکھنے کی اجازت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی ہسپتال منتقلی، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اڈیالہ جیل سے اہم خبر آگئی

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات کی بھی ہدایت کی ہے، جبکہ ان کے بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت تک عمران خان کے اہلخانہ، سیاسی جماعت کے ارکان یا وکلا ان کی طبی رپورٹس یا صحت سے متعلق معلومات میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔

Related Articles