وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آزادانہ اور میرٹ پر مبنی ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے اس معاملے میں بڑی دیر کردی، حالانکہ سیدھا راستہ قانونی فورم سے رجوع کرنا تھا،پی ٹی آئی نے درست فورم پر اپنا کیس رکھا اور عدالت نے میرٹ کے مطابق فیصلہ سنایا۔
عدالتوں کا احترام ضروری ہے
سینیٹر رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف آج سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعریف کر رہی ہے، لیکن سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ جب فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق نہ آئے تب بھی عدالتوں کا احترام برقرار رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کو سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ قانونی اداروں اور عدالتی نظام کا احترام ہر صورت میں برقرار رہنا چاہیے۔
گھیراؤ کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر تحریک انصاف گھیراؤ اور احتجاج کے بجائے شروع سے قانونی راستہ اختیار کرتی تو اسے ریلیف پہلے مل جاتا، کسی بھی معاملے میں متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کرنا ہی درست طریقہ ہے۔
اپوزیشن سے مذاکرات کی پیشکش برقرار
اپوزیشن سے مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کافی عرصے سے موجود ہے، تاہم اپوزیشن کی طرف سے اس پر اب تک مثبت ردعمل نہیں ملا،ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن بات چیت کے لیے اپوزیشن کی جانب سے بھی سنجیدہ اور مثبت پیش رفت ضروری ہے۔
نئے صوبوں پر ابھی صرف بحث
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق رانا ثنااللہ نے کہا کہ فی الحال اس معاملے پر صرف بحث برائے بحث جاری ہے اور کوئی واضح تجویز سامنے نہیں آئی،انہوں نے کہا کہ جب نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی واضح بات سامنے آئے گی تو مسلم لیگ ن اس معاملے پر اپنی رائے قائم کرے گی، فی الوقت اس معاملے پر کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔