راولپنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارش، سڑکیں، نالے پانی سے بھر گئے، گاڑیوں کو نقصان، نالہ لئی بھی بھپر گیا، الرٹ جاری

راولپنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارش، سڑکیں، نالے پانی سے بھر گئے، گاڑیوں کو نقصان، نالہ لئی بھی بھپر گیا، الرٹ جاری

راولپنڈی اور اسلام آباد میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش جاری ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور نالہ لئی میں طغیانی کا خطرہ بڑھ گیا ہے، سڑکیں اور نالے پانی سے بھر گئے، متعدد گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں۔ پانی مکانوں اور دکانوں کے اندر جانے سے شہریوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

محکمہ موسمیات نے نالہ لئی کے لیے فلڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور نشیبی علاقوں سے آبادی کے انخلا کی پیشگی تیاری کی ایک بار پھر ہدایت کردی۔

شمس آباد میں 122 ملی میٹر، کچہری میں 121 ملی میٹر اور پیرودھائی و نیو کٹاریاں میں 118 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ انتظامیہ، واسا، ریسکیو اور سول ڈیفنس کو نکاسی آب کے لیے متحرک کردیا گیا ہے۔

نالہ لئی میں پانی کی سطح تشویشناک، نگرانی بڑھا دی گئی

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران مزید تیز بارش کا امکان ہے، جس سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی نالوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہوسکتی ہے۔ نالہ لئی کی صورتحال کو خاص طور پر حساس قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موسلا دھار بارش ، نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ، شہریوں کو انخلاء کا حکم

محکمہ موسمیات کی بریفنگ کے مطابق صبح 6:30 بجے نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 21 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 16 فٹ تک پہنچ گئی تھی۔ بعد ازاں پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور مختلف اوقات میں دونوں مقامات پر صورتحال تبدیل ہوتی رہی۔

حکام نے نالہ لئی کے مسلسل مشاہدے اور پانی کے بہاؤ میں معمولی اضافے کو بھی سنجیدگی سے لینے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ مسلسل بارش کی صورت میں برساتی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

راولپنڈی میں ہائی الرٹ، ہیوی مشینری نشیبی علاقوں میں پہنچا دی گئی

کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی کی ہدایت پر بارش کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ واسا، سول ڈیفنس، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کا عملہ نشیبی علاقوں میں تعینات ہے جبکہ پانی کی نکاسی کے لیے ہیوی مشینری بھی مختلف مقامات پر موجود ہے۔

کمشنر نے لیاقت باغ، کمیٹی چوک انڈر پاس، مری روڈ، ڈھوک کھبہ، سرکلر روڈ اور صادق آباد سمیت دیگر نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے انتظامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

انتظامیہ کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی مقام پر پانی جمع ہونے کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اہم شاہراہیں زیادہ دیر تک بند نہ رہیں۔

122 ملی میٹر تک بارش، کئی علاقوں میں غیر معمولی بارش ریکارڈ

محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق شمس آباد میں 122 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کچہری میں 121 ملی میٹر، پیرودھائی میں 118 ملی میٹر اور نیو کٹاریاں میں بھی 118 ملی میٹر بارش ہوئی۔

سیدپور میں 95 ملی میٹر، بوکرہ میں 100 ملی میٹر، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مقام پر 100 ملی میٹر اور دیگر علاقوں میں بھی نمایاں مقدار میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ گولڑہ میں 94 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہونے کی اطلاع ہے۔

مزید پڑھیں:مون سون کا چھٹا اسپیل تیار! کہاں کہاں بارش ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا

بارش کے اس تسلسل نے پہلے سے دباؤ کا شکار نکاسی آب کے نظام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ مسلسل بارش کے دوران پانی کی نکاسی کی رفتار کم ہونے سے چند منٹوں میں سڑکوں اور نشیبی آبادیوں میں پانی جمع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

مدرسے سے 150 بچوں کا محفوظ انخلا

بارش کے باعث صدر کے علاقے میں ایک مدرسے کے احاطے میں پانی داخل ہوگیا، جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے وہاں موجود 150 بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امدادی اداروں کی بروقت کارروائی اس امر کی اہمیت اجاگر کرتی ہے کہ مسلسل بارش کے دوران نشیبی عمارتوں، تعلیمی اداروں اور آبادیوں کی نگرانی میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔

اسلام آباد میں بھی موسلادھار بارش، شہریوں کے لیے ٹریفک ایڈوائزری

اسلام آباد میں مسلسل بارش کے پیش نظر ٹریفک پولیس نے شہریوں کو محتاط ڈرائیونگ کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ گیلی سڑکوں پر گاڑی اور موٹر سائیکل کی رفتار کم رکھی جائے، اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ برقرار رکھا جائے اور اچانک بریک یا خطرناک اوورٹیکنگ سے گریز کیا جائے۔

کم حدِ نگاہ کی صورت میں فوگ لائٹس کے استعمال، سائیڈ شیشوں اور انڈیکیٹرز کے درست استعمال کے ساتھ سیٹ بیلٹ باندھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ڈرائیوروں کو اپنی لین میں رہنے اور سڑک کی بدلتی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

موٹر سائیکل سواروں کو انتہائی بائیں لین میں سفر کرنے، غیر ضروری لین تبدیل نہ کرنے اور ہر صورت ہیلمٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے افسران شہریوں کی رہنمائی کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔

راولپنڈی سٹی ٹریفک پولیس نے بھی شہریوں کو بارش کے دوران رفتار کم رکھنے، محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے اور اچانک بریک و اوورٹیکنگ سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

گٹروں کے ڈھکن نہ کھولیں، کچرا نالوں میں پھینکنے سے گریز کریں

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارش کے دوران نالوں اور گٹروں میں کچرا نہ پھینکا جائے اور گٹروں کے ڈھکن ہرگز نہ کھولے جائیں۔

بارش کے پانی کے ساتھ کچرا برساتی نالوں میں پہنچ کر نکاسی آب کے راستے بند کرسکتا ہے، جبکہ کھلے مین ہول انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ پانی جمع ہونے والے مقامات سے غیر ضروری طور پر گزرنے سے گریز کریں اور بچوں کو برساتی نالوں، کھلے مین ہولز اور تیز بہاؤ والے پانی کے قریب نہ جانے دیں۔

ہنگامی صورتحال میں فوری رابطے کی ہدایت

کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں شہری واسا کی ہیلپ لائن 1334 یا پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو شکایات اور ہنگامی اطلاعات پر فوری ردعمل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کمشنر راولپنڈی نے تمام متعلقہ اداروں کو مون سون کے موجودہ اسپیل کے دوران پیشگی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے، عملے کی دستیابی یقینی بنانے اور حساس مقامات کی مسلسل نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

21 اگست تک بارش کا امکان، خطرہ ابھی ٹلا نہیں

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا موجودہ اسپیل 21 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال میں آج کی بارش کو محض ایک عارضی شہری مسئلہ سمجھنا مناسب نہیں، کیونکہ مسلسل بارش زمین میں پانی جذب ہونے کی صلاحیت کم کرنے کے بعد مزید بارش کا پانی تیزی سے نشیبی علاقوں کی جانب منتقل کرتی ہے۔

راولپنڈی میں نالہ لئی کی صورتحال اس خطرے کی سب سے اہم علامت ہے۔ کٹاریاں اور گوالمنڈی کے مقامات پر پانی کی سطح میں تیزی سے ہونے والی تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بارش میں شدت آنے پر صورتحال چند گھنٹوں میں بدل سکتی ہے۔

اصل خطرہ صرف بارش نہیں، نکاسی آب کا دباؤ بھی ہے

موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف بارش کی مقدار نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے۔

ایک ہی اسپیل میں بار بار ہونے والی تیز بارش شہری نکاسی آب کے نظام کو مسلسل دباؤ میں رکھتی ہے۔ ایسے میں وہ علاقے زیادہ حساس ہوجاتے ہیں جہاں سڑکیں نشیبی ہوں، برساتی نالے قریب ہوں یا پانی کے اخراج کے راستے محدود ہوں۔

مزید پڑھیں:جڑواں شہروں میں موسلا دھار بارش، ندی نالوں میں طغیانی،این ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ

نالہ لئی کی سطح میں اتار چڑھاؤ بھی انتظامیہ کے لیے ایک اہم وارننگ ہے۔ پانی کی سطح میں وقتی کمی کو خطرے کے خاتمے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اوپر والے علاقوں میں ہونے والی بارش کا پانی کچھ وقفے کے بعد نالے میں پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے مسلسل مانیٹرنگ، بروقت مشینری کی منتقلی اور ضرورت پڑنے پر نشیبی آبادیوں کا پیشگی انخلا انتہائی اہم ہے۔

اس صورتحال میں شہری تعاون بھی انتظامی اقدامات جتنا ہی اہم ہے۔ نالوں میں کچرا پھینکنا، مین ہولز کے ڈھکن کھولنا، پانی سے بھری سڑکوں پر تیز رفتاری سے گاڑی چلانا یا برساتی نالوں کے قریب غیر ضروری طور پر جانا ایسے عوامل ہیں جو ایک قدرتی خطرے کو انسانی حادثے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

Related Articles