پاکستان میں خواتین کو کاروباری اور مالیاتی شعبے میں آگے لانے کے لیے حکومتی اقدامات کے تحت ایک لاکھ سے زائد نوجوان خواتین کاروباریوں کو تقریباً 29 ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کی جا چکی ہے۔
قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق 31 مئی 2026 تک وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت 104,237 خواتین کاروباریوں نے قرض حاصل کیا۔
یہ اعداد و شمار رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کیے گئے۔ وزیر خزانہ کے مطابق دسمبر 2025 تک پاکستان میں خواتین کی مالی شمولیت کی شرح 55 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ بینک اکاؤنٹس رکھنے کے معاملے میں خواتین اور مردوں کے درمیان فرق کم ہو کر 29 فیصد رہ گیا۔
مارچ 2026 تک خواتین اور خواتین کی ملکیت والے کاروباروں کو دیے گئے قرضے مجموعی کمرشل قرضوں کا 13 فیصد اور نجی شعبے کو فراہم کیے گئے قرضوں کا 9 فیصد تھے۔ اگر مائیکرو فنانس حاصل کرنے والی خواتین کو بھی شامل کیا جائے تو یہ شرح کمرشل قرضوں میں 18 فیصد اور نجی شعبے کے قرضوں میں 11 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی خواتین کے لیے مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے لیے ومین انکلسیو فنانس پروگرام سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے چلنے والے اس پروگرام کے تحت مارچ 2026 تک مختلف مالیاتی اداروں نے 546,144 خواتین قرض لینے والوں کو 46 ارب روپے سے زائد کی فنانسنگ فراہم کی۔
وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم جنوری 2023 میں نوجوان پاکستانیوں میں کاروبار اور خود روزگار کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ اسکیم کے تحت کم از کم 25 فیصد قرضے خواتین کاروباریوں کے لیے مختص کرنا ضروری ہے۔