عمران خان کی ہسپتال سے واپس اڈیالہ جیل منتقلی، بیرسٹر گوہر کا بیان آگیا

عمران خان کی ہسپتال سے واپس اڈیالہ جیل منتقلی، بیرسٹر گوہر کا بیان آگیا

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال شفٹ کرنا اور وہاں رکھنا سپریم کورٹ فیصلے کے تحت لازم تھا۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد جمعہ 21 اگست کی صبح دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بہت بڑی بدقسمتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل واضح تھا، کوئی ہے جو نہیں چاہتا کہ مسائل کا حل نکلے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں ابہام تھا تو نظر ثانی ہو سکتی تھی۔

بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفٹ کرنا اور وہاں رکھنا سپریم کورٹ فیصلے کے تحت لازم تھا، چاہتے ہیں، سیاسی مسائل کا سیاسی حل ہو، اس کی توقع نہیں تھی کہ کسی اور ہسپتال میں منتقل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں ہوا جس میں شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے ، عطاتارڑ

قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حلفا کہہ سکتا ہوں کہ عمران خان کو صحت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عدالت کے حکم پر بانی تحریک انصاف عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا گیا اس موقع پر ان کی بہن عظمیٰ خان جو کہ خود بھی ڈاکٹر ہیں ، موجود تھیں ، ڈاکٹرز نے انہیں مکمل صحتمند قرار دیا اور انہیں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی وضاحت کی ہے کہ عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے لیے اڈیالہ جیل سے لایا گیا تاہم شفا اسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کی موجودگی کے باعث پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کے سبب عمران خان کو سرکاری اسپتال پمز منتقل کیا گیا، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔

editor

Related Articles