پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے بعد معاہدے میں ایک املک کی انٹری؟ بڑا اشارہ آگیا

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے بعد معاہدے میں ایک املک کی انٹری؟ بڑا اشارہ  آگیا

پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے بنگلہ دیش نے اس نوعیت کے کسی اقتصادی یا دفاعی فریم ورک میں شمولیت کے امکان پر مثبت رویے کا اظہار کردیا ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کے قریبی معاون اور خارجہ امور سے متعلق مشیر حمایوں کبیر نے کہا ہے کہ ڈھاکہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ پر مشتمل کسی اقتصادی یا دفاعی فریم ورک میں شامل ہونے کے امکان کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش اپنے قومی مفادات، عالمی معیشت اور تجارت کی بدلتی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاملے کا جائزہ لے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ نے رواں ماہ مکہ مکرمہ میں ایک اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیٹرنس ایگریمنٹ 7 اگست 2026 کو طے پایا تھا، جس کا مقصد باہمی دفاع، سکیورٹی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سولر صارفین کیلئے بڑی خوشخبری ، کنکشن سے متعلق بڑا حکم

مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟

پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں بنیادی طور پر مشترکہ دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ معاہدے کے اعلان کے مطابق تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

اس معاہدے کو خطے میں ایک نئے سکیورٹی تعاون کے فریم ورک کے طور پر دیکھا جارہا ہے تاہم سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف فوجی اتحاد یا فرقہ وارانہ بلاک بنانے کی کوشش نہیں ہے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے کیا کہا گیا؟

بنگلہ دیشی حکام کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں الفاظ خاص طور پر اہم ہیں۔ ڈھاکہ نے یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ معاہدے کا رکن بن چکا ہے بلکہ کہا ہے کہ وہ شمولیت کے امکان کے لیے مثبت رویہ رکھتا ہے اور اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا جائزہ لے گا۔

اس کا مطلب ہے کہ فی الحال بنگلہ دیش کی جانب سے باضابطہ شمولیت کا فیصلہ یا معاہدے پر دستخط سامنے نہیں آئے تاہم ڈھاکہ نے ممکنہ شمولیت کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کے سعودی عرب کے دورے کی بھی توقع کی جارہی ہے جو اس معاملے سمیت دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید پیش رفت کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔

پاکستان کیلئے اس پیش رفت کی اہمیت

اگر مستقبل میں بنگلہ دیش اس دفاعی یا اقتصادی فریم ورک کا حصہ بنتا ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا کے باہمی تعلقات پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ عرصے میں سفارتی اور دفاعی روابط میں بھی سرگرمی دیکھی گئی ہے جبکہ ترکیہ کے ساتھ بنگلہ دیش کے دفاعی تعلقات پہلے ہی موجود ہیں۔ بنگلہ دیش نے ماضی میں ترکیہ سے دفاعی سازوسامان حاصل کیا ہے اور دونوں ممالک دفاعی صنعت میں تعاون کے امکانات بھی تلاش کرتے رہے ہیں۔

اس پس منظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ کسی وسیع تر دفاعی یا اقتصادی تعاون میں بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت ڈھاکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔

خطے کی سیاست پر ممکنہ اثرات

مکہ معاہدے کے بعد دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کے امکانات پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے ماہرین کے مطابق اگر یہ فریم ورک مزید ممالک تک پھیلتا ہے تو اس سے خطے میں دفاعی اور اقتصادی تعاون کا نیا ڈھانچہ تشکیل پاسکتا ہے۔ الجزیرہ نے بھی معاہدے کے بعد اس امکان کا جائزہ لیا تھا کہ مستقبل میں مزید ممالک اس فریم ورک کا حصہ بن سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش کا تازہ بیان اسی سلسلے کی اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

بھارت کی نظر بھی پیش رفت پر

بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کی خبر کے بعد بھارت کی جانب سے بھی صورتحال پر نظر رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بنگلہ دیش کے ممکنہ طور پر مکہ دفاعی فریم ورک کے قریب آنے کی پیش رفت کو نوٹ کیا ہے۔

یوں پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم ہونے والے دفاعی تعاون کے دائرے میں بنگلہ دیش کی دلچسپی نے خطے میں نئی سفارتی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم فی الحال اسے بنگلہ دیش کی باقاعدہ شمولیت نہیں بلکہ ممکنہ شمولیت کا اہم اشارہ قرار دینا زیادہ درست ہوگا۔

اگر ڈھاکہ مستقبل میں باضابطہ طور پر اس فریم ورک میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ جنوبی ایشیا، خلیج اور وسیع تر مسلم دنیا میں دفاعی و اقتصادی تعاون کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles