مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کیلئے اسٹریٹجک وسعت اور علاقائی توازن کا ذریعہ ہے،امریکی جریدہ

مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کیلئے اسٹریٹجک وسعت اور علاقائی توازن کا ذریعہ ہے،امریکی جریدہ

معروف امریکی جریدے فارن پالیسی ان فوکس (ایف پی آئی ایف) نے مکہ باہمی دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے اسٹریٹجک وسعت، سفارتی اثر و رسوخ اور علاقائی توازن کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے۔

ایف پی آئی ایف میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ بدلتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے،مضمون کے مطابق معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک نئے تناظر میں پیش کرتا ہے اور خطے میں سکیورٹی تعاون کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

واشنگٹن میں پاکستان کا سفارتی وزن

امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی حمایت کو پاکستان کے واشنگٹن میں برقرار سفارتی وزن کی علامت قرار دیا گیا ہے،مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے کے دفاع اور پائیدار امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مکہ معاہدہ خطے میں امن،سلامتی اور خوشحالی کے لیے ہے،وزیراعظم شہباز شریف

ایران مخالف اتحاد نہیں

ایف پی آئی ایف کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے کو ایران مخالف اتحاد قرار دینا درست نہیں ہوگا،مضمون میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی نوعیت کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے علاقائی دفاعی تعاون اور سکیورٹی کے وسیع تر تصور سے جڑی ہوئی ہے۔

بھارتی اسرائیلی تعاون کا تناظر

مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا اسٹریٹجک تعاون پاکستان کے لیے مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے،اس تناظر میں معاہدہ پاکستان کو خطے میں اپنے دفاعی اور سفارتی روابط کو وسعت دینے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

دیگر ممالک کے لیے راستہ کھلا

امریکی جریدے کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی شمولیت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے،مضمون میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی اصل طاقت کسی سخت دفاعی بلاک کے قیام کے بجائے اس کی شمولیتی اور لچکدار نوعیت میں ہے، جو بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں مزید ممالک کو تعاون کا حصہ بننے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔

علاقائی توازن میں اہم پیش رفت

ایف پی آئی ایف نے مکہ معاہدے کو پاکستان کے لیے اسٹریٹجک وسعت، سفارتی اثر اور علاقائی توازن کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے،مضمون کے مطابق معاہدہ خطے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور دفاعی تعاون کے لیے بھی نئی گنجائش پیدا کرسکتا ہے۔

editor

Related Articles