وزیراعظم شہباز شریف نے جاتی امرا میں مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت آزاد کشمیر میں حکومت سازی اور نئے وزیراعظم کے نام پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کے درمیان ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہی، ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، حکومتی امور اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور حکومت سازی کے حوالے سے مختلف امور پر مشاورت کی، اس موقع پر آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے لیے زیر غور ممکنہ امیدواروں کے ناموں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے نام پر فیصلہ
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے حوالے سے نام کا فیصلہ کرلیا ہے، تاہم حتمی نام کا باضابطہ اعلان فی الحال نہیں کیا گیا،نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان جلد متوقع ہے، جس کے بعد آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے حوالے سے صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی مشاورت کی،لیگی قیادت نے آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام اور حکومت کے مؤثر انداز میں امور چلانے سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
ملاقات کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت کی جانب سے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام کے اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس سے حکومت سازی کے آئندہ مرحلے کی سمت واضح ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے درمیان جاتی امرا میں ہونے والی اہم ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، بانی پی ٹی آئی کی صحت اور عدالتی فیصلے سمیت اہم امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ملاقات میں اہم امور
ملاقات کے ایجنڈے میں سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ سرفہرست رہا، وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز میں طبی معائنے کے لیے لے جانے سے متعلق وجوہات سے بھی آگاہ کیا۔
قانونی آپشنز پر غور
ملاقات میں سیاسی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مختلف قانونی آپشنز پر بھی مشاورت کی گئی ،میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کیے جانے اور حکومت کی طرف سے اس کے ممکنہ قانونی جواب کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔
سیاسی بحران سے بچنے پر زور
ق نواز شریف نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان مزید کسی سیاسی اور آئینی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا،انہوں نے سیاسی معاملات کو موجودہ حالات میں احتیاط اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھانے پر زور دیا۔