امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا ہے کہ جماعت اسلامی کسی گرینڈ اپوزیشن اتحاد میں شامل نہیں ہوگی بلکہ نظام کی تبدیلی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد اپنے پلیٹ فارم سے جاری رکھے گی۔
لاہور میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ماضی میں سیاسی اتحاد جماعت اسلامی کے لیے فائدہ مند ثابت ہونے کے بجائے نقصان کا باعث بنے، اسی لیے اب جماعت اپنی تحریک خود آگے بڑھائے گی۔
حکومت سے مذاکرات
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت موصول ہوئی ہے، تاہم ایسا نہیں ہوسکتا کہ ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہوں اور اسلام آباد میں بند کمروں کے اندر مذاکرات کیے جائیں،انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو جماعت اسلامی کے مطالبات سنجیدگی سے تسلیم کرنا ہوں گے اور دھرنا طویل اور صبر آزما ہوسکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا،احتجاج کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔
پہیہ جام کی تیاری
انہوں نے بتایا کہ شٹر ڈاؤن کے بعد پہیہ جام اور دیگر احتجاجی مراحل اختیار کیے جائیں گے، جس کے بعد اسلام آباد کی جانب فیصلہ کن مارچ کا آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ضلعی سطح پر احتجاج
امیر جماعت اسلامی کے مطابق صوبائی دارالحکومتوں کے علاوہ اضلاع کی سطح پر بھی احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ احتجاجی تحریک میں پیدل مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے،حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے حصول اور نظام کی تبدیلی کے لیے عوام کو متحرک کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔