چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی اتحاد کا حصہ بنیں تاکہ سیاسی جماعتیں مل کر ملک کے لیے کام کرسکیں۔
پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس وقت سیاسی اتحاد کا دائرہ قومی اسمبلی تک محدود ہے، تاہم ان کی خواہش ہے کہ یہ اتحاد مزید آگے بڑھے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون کو وسعت دی جائے۔
سیاسی رابطے ضروری ہیں
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے جاری رہنے چاہئیں اور سیاست میں کسی بھی وقت کسی معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہوسکتا ہے،انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے رہنما بھی ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی قوتوں کا ایک دوسرے سے رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے اور مستقبل میں مختلف معاملات پر مشترکہ مؤقف بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔
عمران خان کی مولانا فضل الرحمان سے متعلق رائے
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان ہمارے ساتھ آتے ہیں تو ان کے ساتھ بات چیت کی جاسکتی ہے،بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ فی الحال گرینڈ الائنس قومی اسمبلی کی سطح تک ہے، تاہم اتحاد کو آگے بڑھانے کے امکانات موجود ہیں۔
ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو مکمل اختیار
انہوں نے مزید کہا کہ علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو سیاسی معاملات میں مکمل اختیارات حاصل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنما اتحاد اور سیاسی رابطوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کے مزید کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مذاکرات اور باہمی رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون کے امکانات پیدا ہوسکیں۔