صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ایک بار پھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی احتجاجی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ان کے ہری پور جلسے میں شرکت سے گریز کیا، شدید سردی اور بڑھتے ہوئے عوامی مسائل کے باعث عوام نے گھروں سے باہر نہ نکلنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ کے استقبال اور جلسے کے لیے نکلنے والے قافلوں میں محض چند افراد ہی شامل نظر آئے۔
آزاد ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق ہری پور جلسے کے لیے پشاور موٹر وے ٹول پلازہ پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے صرف 10 سے 12 گاڑیاں اور 30 کے قریب کارکنان موجود تھے، جبکہ وزیراعلیٰ کے سیکیورٹی سٹاف کی تعداد تحریک انصاف کے کارکنان سے کہیں زیادہ دکھائی دی، ٹول پلازہ پر پی ٹی آئی کے چند کارکنان کے علاوہ کوئی خاص عوامی موجودگی نہ تھی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت شدید مسائل کا شکار ہے، صوبہ مسائلستان بن چکا ہے، مہنگائی عروج پر ہے، بنیادی سہولیات ناپید ہیں، جبکہ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں، شہریوں کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ صوبے کے کروڑوں عوام کو درپیش مشکلات حل کرنے کے بجائے ایک شخص کی سیاست کے لیے احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
عوام نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی کی احتجاجی سیاست کو پہلے پنجاب کے عوام نے مسترد کیا، پھر سندھ کے عوام نے اس میں کوئی دلچسپی نہ لی، اور اب خیبر پختونخوا کے عوام بھی ہری پور میں جلسے سے لاتعلق دکھائی دے رہے ہیں، شہریوں کے مطابق سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال پارٹی تشہیر اور غیر ضروری اقدامات پر کیا جا رہا ہے جو عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان اب بھی ہمارے وزیراعظم ہیں اور انہی کی ہدایت پر سٹریٹ موومنٹ شروع کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ ہزارہ کی تاریخ میں آج ریکارڈ ریلیاں نکالی جائیں گی، تاہم ان کی گفتگو کے دوران عقب میں مٹھی بھر کارکنان ہی نظر آئے۔
واضح رہے کہ ایک طویل عرصے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہری پور آمد ہو رہی ہے، کارکنان صدیق اکبر چوک پر جمع ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مجموعی طور پر جلسے اور استقبال کے مقامات پر عوامی جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا، صورتحال نے حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کر دیا ہے۔