زلزلوں میں ریسکیو آپریشن کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کاکروچ تیار

زلزلوں میں ریسکیو آپریشن کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کاکروچ تیار

زلزلوں، عمارتیں گرنے اور دیگر قدرتی آفات کے دوران ملبے تلے پھنسے افراد کی جانیں بچانے کیلئے سائنسدانوں نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس سائبرگ کاکروچ تیار کرلیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے دنیا کے سب سے بڑے کاکروچ کو جدید آلات سے لیس کرکے ایک ایسا منفرد نظام تیار کیا ہے جو مستقبل میں ملبے تلے دبے افراد تک زندگی بچانے والی ادویات پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ اور یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے سائنسدانوں نے مشترکہ تحقیق کے دوران کاکروچ کی پشت پر چھوٹے کیمرے اور منی ایچر انجیکشن ڈیوائسز نصب کیں۔ یہ سائبرگ کاکروچ زلزلے یا عمارت گرنے کے بعد تنگ اور ملبے سے بھرے راستوں سے گزر کر ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے متاثرہ افراد تک بنیادی طبی امداد پہنچا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:چوری شدہ فون اب ڈھونڈنا آسان، 65 سالہ شخص کی دلچسپ ایجاد

جریدے ایڈوانسڈ سائنس میں شائع تحقیق کے شریک مصنف کے مطابق اگرچہ بہت سے لوگوں کو بڑے کاکروچ کا قریب آنا ناگوار لگ سکتا ہے، لیکن ملبے یا کسی غار میں پھنسے شخص کیلئے یہ کیڑا زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق کیلئے نارتھ کوئنزلینڈ کے دیوہیکل بروئنگ کاکروچ کا انتخاب کیا گیا، جسے دنیا کے بھاری ترین کاکروچز میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کی لمبائی ساڑھے 8 سینٹی میٹر تک ہوسکتی ہے۔

محققین کے مطابق اس سے قبل سائبرگ کیڑوں پر ہونے والی تحقیق کا بنیادی مقصد لاپتا یا ملبے تلے پھنسے افراد کا سراغ لگانا تھا، تاہم نئی تحقیق میں انہیں علاج اور ادویات پہنچانے کی صلاحیت سے بھی لیس کیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ننھے سائبرگ ریسکیو ورکرز قدرتی آفات کے دوران انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

editor

Related Articles