محکمہ داخلہ آزاد کشمیر نے ریاست بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی مرحلہ وار بحالی کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد مختلف علاقوں میں رات 12 بجتے ہی انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہو گئی۔ تاہم راولاکوٹ اور سدھنوتی میں فی الحال انٹرنیٹ سروس بحال نہیں کی گئی۔
محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری مراسلے میں مختلف اضلاع اور علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز کی بحالی سے متعلق الگ الگ تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نیلم اور جہلم ویلی میں 3G اور 4G سروس بحال کر دی گئی ہے جبکہ دیگر متعدد اضلاع میں ڈی ایس ایل سروس بھی مرحلہ وار بحال کی گئی ہے۔
مراسلے کے مطابق اپر نیلم اور لوئر نیلم میں ڈی ایس ایل ڈی ایس ایل کے ساتھ 3G اور 4G سروسز بھی بحال کی جائیں گی۔ مظفرآباد میں ڈی ایس ایل سروس فی الحال صرف تعلیمی اداروں، اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے لیے دستیاب ہوگی۔
جہلم ویلی میں تعلیمی اداروں اور بینکوں کو ڈی ایس ایل سروس فراہم کی جائے گی، جبکہ لیپا ویلی میں ڈی ایس ایل کے ساتھ 3G اور 4G انٹرنیٹ سروس بھی بحال کی جائے گی۔
محکمہ داخلہ کے مطابق راولاکوٹ اور سدھنوتی میں فی الحال انٹرنیٹ سروس بحال نہیں کی جائے گی۔
باغ میں ڈی ایس ایل سروس صرف تعلیمی اداروں جبکہ باغ سٹی اور دھیرکوٹ سٹی کی حدود میں موجود بینکوں تک محدود ہوگی۔ حویلی کہوٹہ میں ڈی ایس ایل کے ساتھ 3G اور 4G سروسز بحال کی جائیں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کوٹلی میں ڈی ایس ایل سروس تعلیمی اداروں اور ضلع بھر کے بینکوں کے لیے مخصوص ہوگی، جبکہ بھمبر اور میرپور میں پورے اضلاع کے لیے ڈی ایس ایل سروس بحال کی جائے گی۔
محکمہ داخلہ نے تمام تعلیمی اداروں اور بینک برانچوں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ انہیں فراہم کیے جانے والے ڈی ایس ایل کنکشنز کے حوالے سے حلف نامہ جمع کرایا جائے۔ حلف نامے میں اس امر کی یقین دہانی کرائی جائے گی کہ انٹرنیٹ کنکشنز کو ایسی کسی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو امن عامہ، ریاستی مفادات یا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو۔
متعلقہ محکموں اور بینک انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں اور بینک برانچوں کے GPON/DSL کنکشن نمبرز اور دیگر ضروری تفصیلات فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ انٹرنیٹ سروس کی بحالی اور حلف ناموں کی وصولی کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ سروس کی بحالی صارفین کے رویے سے بھی مشروط ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر انٹرنیٹ کا استعمال اشتعال انگیزی یا امن عامہ میں خلل ڈالنے والی سرگرمیوں کے لیے کیا گیا تو متعلقہ علاقوں میں سروس دوبارہ معطل کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کی مرحلہ وار بحالی کے فیصلے سے تعلیمی اداروں، بینکوں، کاروباری سرگرمیوں اور عام صارفین کو سہولت ملنے کی توقع ہے، تاہم راولاکوٹ اور سدھنوتی کے صارفین کو فی الحال سروس کی بحالی کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا۔