چارسدہ میں بجلی کا بھاری بل ایک ریٹائرڈ ملازم نور حسن کے لیے جان لیوا ثابت ہوگیا، محکمہ تعلیم سے ریٹائرڈ معمر شخص زیادہ بل کی شکایت لے کر پیسکو دفتر پہنچا جہاں میٹر ریڈنگ سیکشن میں تکرار کے بعد اسے دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کرگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متوفی کے بیٹے نور اللہ کے مطابق ان کے والد بجلی کا بل درست کرانے اور زیادہ رقم کی شکایت لے کر پیسکو دفتر گئے تھے،ان کا کہنا ہے کہ میٹر ریڈنگ سیکشن میں عملے کے ساتھ تکرار کے بعد والد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی،نور اللہ کے مطابق ان کے والد کو دل کا دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہوسکے۔
نور اللہ کا کہنا ہے کہ ان کے والد کے بجلی کے میٹر میں ریڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم اس کے باوجود 50 ہزار روپے کا بل بھیج دیا گیا تھا، جس پر وہ شدید پریشان تھے اور اسی معاملے کی شکایت لے کر پیسکو دفتر آئے تھے،بیٹے کے مطابق بھاری رقم کے بل نے ان کے والد کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا تھا۔
واقعے کے بعد مقامی شہریوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں میں مبینہ غلطیوں اور شکایات کے بروقت ازالے کے لیے مؤثر نظام ضروری ہے تاکہ صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب پیسکو کے ایس ڈی او نے متوفی کے ساتھ دفتر میں بدتمیزی یا تکرار ہونے کے دعوے کی تردید کی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق نور حسن نے بجلی کے بل کے معاملے پر عدالت سے بھی رجوع کیا تھا۔
ایس ڈی او کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں متوفی کے بل کی تصحیح کردی گئی تھی اور 50 ہزار روپے کے بجائے رقم کم کرکے 12 ہزار روپے کردی گئی تھی۔
واقعے کے بعد متوفی کے بیٹے نور اللہ نے متعلقہ میٹر ریڈر فیاض کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس کو درخواست جمع کرادی ہےمعاملے کے مختلف پہلوؤں کی جانچ کے بعد ہی قانونی کارروائی اور ذمہ داری کا تعین ہوسکے گا۔
متوفی کی موت کے حوالے سے بیٹے کی جانب سے عائد الزامات اور پیسکو حکام کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے متعلقہ حکام کی تحقیقات اہم قرار دی جارہی ہیں۔