پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپنر امام الحق کی انجری سے متعلق معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ تحقیقات کے نتیجے میں امام الحق کے خلاف سخت کارروائی کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مقامی کرکٹ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی امام الحق کی انجری کے معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے جا رہا ہے، ذرائع کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کسی کھلاڑی کے خلاف کارروائی کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امام الحق پر ممکنہ طور پر دو سال تک پابندی عائد کیے جانے کا معاملہ زیر غور ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
محمد رضوان بھی پی سی بی کے ریڈار پر
ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے نظم و ضبط سے متعلق بھی پی سی بی کو تحفظات ہیں، بورڈ کی جانب سے مستقبل میں ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق محمد رضوان کو آئندہ کسی پاکستانی ٹیم میں شامل نہ کیے جانے کا امکان بھی زیر بحث ہے۔
لارڈز ٹیسٹ میں امام الحق زخمی ہوئے
امام الحق کو لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز فیلڈنگ کے دوران پنڈلی میں تکلیف ہوئی تھی، انجری کے باعث وہ اگلے روز پاکستان کی پہلی اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اتر سکے،پاکستانی ٹیم انگلینڈ کی جانب سے دیے گئے 290 رنز کے جواب میں صرف 110 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جبکہ امام الحق دوسری اننگز میں بھی بیٹنگ کے لیے دستیاب نہیں تھے۔
انگلینڈ نے پاکستان کو 389 رنز کا ہدف دیا، تاہم قومی ٹیم ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اسے 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا،اس کامیابی کے ساتھ انگلینڈ نے لارڈز ٹیسٹ جیتنے کے علاوہ سیریز بھی اپنے نام کرلی۔
حتمی کارروائی تحقیقات کے بعد ہوگی
رپورٹ کے مطابق امام الحق کی انجری کے معاملے پر سامنے آنے والی پیش رفت کے بعد پی سی بی نے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہےتاہم امام الحق کے خلاف دو سالہ پابندی سمیت کسی بھی کارروائی کو فی الحال حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ بورڈ کی جانب سے حتمی فیصلہ تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔