وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق معاملے کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے لیے کس طرز کا انتظامی نظام چاہتے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر تفصیلی بحث جاری ہے اور اس حوالے سے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا کہ پاکستان میں مزید انتظامی اکائیاں کس حد تک اور کس شکل میں قائم کی جاسکتی ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے کو محض سیاسی تناظر میں نہیں بلکہ عوامی ضرورت اور بہتر انتظامی نظام کے حوالے سے بھی دیکھنا چاہیے،انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے پر مثبت سوچ کے ساتھ پیش رفت ہوگی اور عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا جائے گا۔
محسن نقوی کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ متعلقہ علاقوں کے لوگ خود کیا چاہتے ہیں، اس لیے عوامی خواہش اور مقامی ضروریات کو فیصلہ سازی میں اہمیت دی جانی چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مقامی اور علاقائی سطح پر مضبوط انتظامی نظام موجود ہیں،یورپ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے مختلف ماڈلز رائج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی ایسی قیادت کو آگے آنے کا موقع ملنا چاہیے جو مقامی سطح پر عوام کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکے اور ان کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے،وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں مقامی سطح پر مزید باصلاحیت سیاسی قیادت سامنے آئے۔
انہوں نے لندن کے میئر صادق خان، نیویارک کی سیاست سے وابستہ ممدانی اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بھی ایسے متعدد رہنما سامنے آنے چاہئیں جو مقامی اور قومی سطح پر مؤثر قیادت فراہم کرسکیں۔
دوسری جانب ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بحث کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو نئے انتظامی ماڈل کے تحت چلانے کی تیاریاں بھی تیز کردی گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق ایک مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا ہے۔
مجوزہ ڈرافٹ میں اسلام آباد کے لیے 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے ساتھ دارالحکومت کا اپنا چیف ایگزیکٹو اور مختلف انتظامی محکمے قائم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
تجویز کے مطابق اسمبلی کے 21 ارکان کو براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب کیا جائے گا، جبکہ خواتین کے لیے 5 اور اقلیتی برادری کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے،مجوزہ انتظامی ماڈل کے مطابق اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے حلقوں کی بنیاد پر اسمبلی نشستوں کی تقسیم بھی زیرِ غور ہے۔
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مختلف تجاویز پر غور جاری ہے، تاہم اسلام آباد سے متعلق تیار کیا جانے والا انتظامی ماڈل فی الحال ایک مجوزہ ڈرافٹ ہے اور اس پر حتمی فیصلہ قانونی اور آئینی مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔