امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں کسی صورت سندھو دیش کا نعرہ نہیں چلنے دیا جائے گا، پاکستان کے نظریے کی نفی کرنے والے کسی طبقے کو تسلیم نہیں کرتے۔
فیصل چوک مال روڈ پر پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ احتجاج عوام کی مشکلات اور ان کے احساسات کو آواز دینے کی کوشش ہے۔
شرکا ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ جدوجہد اپنے مقصد تک پہنچے گی،انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد عوام میں شعور اجاگر کرنا بھی ہے، جبکہ جماعت اسلامی ظلم اور معاشی ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
حکومت سے مذاکرات کل ہوں گے
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کل اسلام آباد میں ہوں گے اور ان کی مذاکراتی ٹیم نے اس حوالے سے مکمل تیاری کرلی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو جماعت اسلامی بھی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے،انہوں نے پیٹرولیم لیوی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور عوام پر لیوی کا اضافی بوجھ قبول نہیں کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ایک بیان پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیا،انہوں نے الزام عائد کیا کہ مریم نواز کی حکومت نے پنجاب کے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچایا ہے اور دعویٰ کیا کہ صوبے کے 11 ہزار اسکولوں کو فروخت کردیا گیا۔
نظام کی تبدیلی کی تحریک
دھرنے سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک صرف پٹرولیم لیوی یا کسی ایک معاملے تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو مختلف ادوار میں اقتدار پر قابض رہا ہے۔ ان کے مطابق چاہے مارشل لا ہو یا نام نہاد جمہوریت، جاگیرداروں اور وڈیروں پر مشتمل مخصوص طبقہ ہر جگہ حکمرانی کرتا نظر آتا ہے۔
بندوق کی طاقت سے اقتدار قبول نہیں
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ یہی طبقہ عوام کو ان کے حق حکمرانی سے محروم کرتا ہے اور بندوق کی طاقت کے ذریعے اقتدار میں آتا ہے،انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کا پاکستان اور نظریہ پاکستان سے کوئی تعلق نہیں جبکہ ملک میں عوام کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور انصاف پر مبنی نظام کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔