امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز کے ذریعے روزانہ اوسطاً 90 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل جاری ہے۔ ان کے مطابق تیل کی یہ ترسیل عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کرس رائٹ نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے علاوہ خطے میں موجود پائپ لائنوں کے ذریعے بھی تیل کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف راستوں سے تیل کی ترسیل برقرار رہنے کی وجہ سے عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیر توانائی کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی حفاظت میں امریکی بحریہ کا کردار اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری افواج آئل ٹینکرز کو حفاظتی سہولت فراہم کر رہی ہیں تاکہ انہیں ممکنہ ایرانی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل میں کسی بڑی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت میں انتہائی اہم سمندری گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان واقع یہ راستہ مشرق وسطیٰ سے دنیا کے مختلف حصوں تک تیل اور دیگر توانائی کے وسائل پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد کے حوالے سے تشویش بھی بڑھ جاتی ہے۔
کرس رائٹ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی کی منڈی مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک اور عالمی خریدار آبنائے ہرمز سے ہونے والی ترسیل کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔
امریکی وزیر توانائی نے اس بات پر زور دیا کہ تیل کی ترسیل کے مختلف ذرائع فعال رہنا عالمی توانائی کے نظام کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ حالات کے باوجود توانائی کی سپلائی مکمل طور پر متاثر نہیں ہوئی۔
تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا آئندہ رجحان خطے کی سکیورٹی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر منحصر ہوگا۔ اگر تیل بردار جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت برقرار رہتی ہے تو قیمتوں پر اضافی دباؤ کم ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے جبکہ کشیدگی میں مزید اضافہ عالمی توانائی کی منڈی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔