آ بنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا نیا منصوبہ، ایران اور عمان میں اتفاق

آ بنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا نیا منصوبہ، ایران اور عمان میں اتفاق

 ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر عمان کے ساتھ بنیادی نقشوں اور راستوں کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں باضابطہ دستاویزات پر دستخط آئندہ چند روز کے دوران کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے باہر ایک نئے پابندی والے بحری زون کے قیام کا اعلان بھی جلد کیا جائے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو جلد امریکہ کا حصہ قرار دینے کی دھمکی

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے نقشوں پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اس اتفاق کا مقصد سمندری گزرگاہوں کے حوالے سے ایک واضح طریقہ کار وضع کرنا ہے جس کے تحت بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو نئے طے شدہ راستوں کے مطابق منظم کیا جائے گا۔

محسن رضائی نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان اس معاملے سے متعلق حتمی دستخط چند روز میں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے باہر قائم کیے جانے والے پابندی والے زون کی تفصیلات بھی جلد سامنے لائی جائیں گی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق یہ نیا بحری زون امریکی ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو کر خلیج تک پھیلے گا۔

ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ مجوزہ زون میں داخل ہونے والے ہر بحری جہاز کے خلاف پابندیوں سے متعلق کارروائی کی جائے گی اور ایسے جہاز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت، تجارتی جہازوں اور خطے کی سمندری سرگرمیوں پر اس فیصلے کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے توجہ بڑھ گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو جلد امریکہ کا حصہ قرار دینے کی دھمکی

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج کے خطے میں تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی عالمی ترسیل کے لیے اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اسی وجہ سے یہاں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ایران کی جانب سے کیے جانے والے کسی بھی نئے انتظام یا پابندی کا معاملہ علاقائی سطح کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی حلقوں کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

ایران اور عمان کے درمیان اس معاملے پر اتفاق ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور بحری نقل و حرکت سے متعلق خدشات پہلے ہی موجود ہیں۔ ایرانی حکام کی جانب سے نئے زون کے اعلان اور اس میں داخل ہونے والے جہازوں کے خلاف پابندیوں کے اشارے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

editor

Related Articles