مصنوعی ذہانت نے جنگی ہوابازی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ امریکی دفاعی تحقیق کے ادارے ڈارپا کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر نے پہلی مرتبہ ایف 16 جنگی طیارہ کامیابی سے اڑایا ہے۔ اس تجربے کو مستقبل میں جنگی طیاروں کے استعمال اور فضائی کارروائیوں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ادارے کی جانب سے کیے گئے تجربے میں وینم آٹونومی کٹ نامی مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر نے ایف 16 طیارے کی پرواز کے دوران پائلٹ کے فرائض انجام دیے۔ طیارے میں ایک انسانی پائلٹ بھی موجود تھا، تاہم پرواز کے مختلف مراحل میں مصنوعی ذہانت نے طیارے کو کنٹرول کیا اور اسے مطلوبہ انداز میں اڑایا۔
اس تجربے کی خاص بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے صرف طیارے کو ہوا میں رکھنے تک محدود کردار ادا نہیں کیا بلکہ پرواز کے دوران فیصلہ سازی اور طیارے کی نقل و حرکت کو بھی سنبھالا۔ اس کامیابی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مستقبل میں پیچیدہ فضائی نظاموں کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سرکاری اسکولوں کے لیے تاریخی اقدام، ’مصنوعی ذہانت‘ لازمی مضمون قرار، اساتذہ کی خصوصی تربیت کی تیاریاں
امریکی دفاعی تحقیق کے ادارے ڈارپا کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پائلٹ مستقبل میں انسانی پائلٹوں کے ساتھ مل کر جنگی طیارے اڑا سکتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو عسکری شعبے میں استعمال کرنے کا بنیادی مقصد ایسے حالات میں انسانی جانوں کو خطرے سے بچانا ہے جہاں جنگی طیاروں کی پرواز انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
امریکی حکام مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں بغیر پائلٹ کے فضائی نظاموں اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو خاص اہمیت دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایسے نظام تیار کیے جا رہے ہیں جو انسانی مداخلت کے بغیر مختلف فضائی مشنز انجام دینے کے قابل ہوں۔
ماہرین کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت کو جنگی طیاروں میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا تو اس سے فضائی جنگ کا روایتی تصور نمایاں طور پر تبدیل ہوسکتا ہے۔ موجودہ جنگی طیاروں میں انسانی پائلٹ کو پرواز، صورتحال کا جائزہ لینے اور فوری فیصلے کرنے کی ذمہ داری حاصل ہوتی ہے لیکن مصنوعی ذہانت کے جدید نظام اس عمل کے کئی حصوں کو خودکار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم جنگی طیاروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ کئی اہم سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں خصوصاً یہ کہ انتہائی حساس حالات میں حتمی فیصلہ کس کے اختیار میں ہوگا اور خودکار نظام کو کس حد تک فیصلہ سازی کی آزادی دی جائے گی۔ اسی وجہ سے اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کی آزمائش اور عملی استعمال میں انسانی نگرانی کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :جماعت اوّل تا بارہویں کیلئے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا نصاب منظور


