وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تمام جماعتوں کو جمہوری نظام کے استحکام کے لیے مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر کسی فریق کو حکومت کی پالیسیوں یا اقدامات پر اعتراض ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے تاکہ معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات سامنے آئے تھے تاہم حکومت نے کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی کے متعدد مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور مختلف امور پر پیش رفت بھی کی گئی۔
اختیار ولی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کا معاملہ پہلے پاکستان تحریک انصاف کے بیانیے کا حصہ رہا ہے اس لیے بلاول بھٹو کو اس انداز میں تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابی معاملات پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں تو پھر ان عہدوں پر بھی بات ہونی چاہیے جن کا تعلق مختلف آئینی اداروں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر استعفوں کی بات کی جائے تو اس کا آغاز ایوانِ صدر سے ہونا چاہیے جبکہ ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ، وزیراعلیٰ بلوچستان اور گورنر خیبرپختونخوا کے عہدوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے فراہم کیے گئے فنڈز گلگت بلتستان کے انتخابات میں استعمال ہوئے جبکہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی انہی فنڈز کے استعمال کا معاملہ سامنے آ رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی اس حوالے سے متعلقہ اداروں یا پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف سامنے آیا۔
اختیار ولی نے مزید کہا کہ حکومت تنقید کو مثبت انداز میں لینے پر یقین رکھتی ہے۔ اگر حکومت سے کہیں غلطی ہوئی ہے تو بلاول بھٹو اس کی نشاندہی کریں حکومت خود کو درست کرنے کی کوشش کرے گی۔ اسی طرح اگر بلاول بھٹو سے کوئی غلطی ہوگی تو حکومت بھی اس بارے میں اپنی رائے دے گی تاکہ باہمی مشاورت کے ذریعے جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، کیونکہ ملک میں جمہوری عمل کی مضبوطی تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔