وزارتیں اور پلاٹس مل رہے تھے تب ریاست پیاری تھی؟ فضل الرحمان کو ریاست نہیں پسند تو افغانستان چلے جائیں،گورنر خیبرپختونخوا

وزارتیں اور پلاٹس مل رہے تھے تب ریاست پیاری تھی؟ فضل الرحمان کو ریاست نہیں پسند تو افغانستان چلے جائیں،گورنر خیبرپختونخوا

 گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے خلاف انتہائی سخت اور تند و تلخ زبان استعمال کرتے ہوئے بڑا سیاسی دھماکا کر دیا ہےگورنر کے مطابق فضل الرحمان کو اس وقت ریاست اور ملک کا نظام بالکل ٹھیک لگتا تھا جب وہ وزارتیں اور مزے لوٹ رہے تھے، اور اگر انہیں اب اس ریاست سے اتنی ہی تکلیف ہے تو وہ  افغانستان چلے جائیں۔

ایل ایف او اور شہداء کے پلاٹس کے وقت کہاں تھی تکلیف؟
فیصل کریم کنڈی نے فضل الرحمان کے ماضی کی قلعی کھولتے ہوئے کہا کہ ایل ایف او (LFO) کے دور میں اور شہداء کے نام پر پلاٹس و مراعات تقسیم کرنے کے وقت فضل الرحمان کو یہی ریاست سب سے زیادہ پسند تھی۔،اس وقت کرسی، وزارتیں اور مال بٹورتے ہوئے انہیں کبھی ریاست کے خلاف کوئی تکلیف نہیں ہوئی، لیکن آج جب اقتدار ہاتھ سے نکل چکا ہے تو وہ ریاست مخالف بیانات پر اتر آئے ہیں۔

پی ٹی آئی کا منافقانہ کردار بھی بے نقاب
گورنر خیبر پختونخوا نے صرف فضل الرحمان کو ہی نہیں بلکہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت اور کارکنان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا،انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں خود پی ٹی آئی کے لیڈر یہ کہا کرتے تھے کہ “یہ فضل الرحمان ‘مولانا’ نہیں بلکہ کچھ اور ہیں”, لیکن آج اقتدار کی ہوس میں اندھی وہی پی ٹی آئی اسی شخص کے پیچھے صفیں بنا کر نمازیں پڑھ رہی ہے، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی اور فضل الرحمان کا یہ اتحاد صرف اور صرف اصولوں کا سودا اور اقتدار کی بھوک کا نتیجہ ہے۔

editor

Related Articles