سیاسی فضا میں اس وقت زلزلہ آ گیا جب علامہ شمس الدین کا فضل الرحمان کے خلاف انتہائی سخت پرانا خطاب ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔علامہ شمس الدین کی اس وائرل ویڈیو میں فضل الرحمان کی ’کرائے کی سیاست اور مفاد پرستی کے حوالے سے سخت تنقید کی گئی ہے۔
مال ملے تو قدموں میں، نہ ملے تو فتویٰ بازی!
وائرل ویڈیو میں علامہ شمس الدین نے فضل الرحمان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمان کو ’مولانا‘ کہنا اس مقدس لفظ اور منصب کی توہین ہے،ان کے بقول یہ شخص دراصل کرائے کا بندہ اور سیاسی مہرہ ہے اسے اگر مال ملے تو یہ اقتدار اور حکمرانوں کے قدموں میں بیٹھ جاتا ہے، اور اگر مال نہ ملے تو فتویٰ بازی شروع کر کے بھونکنا شروع کر دیتا ہے۔
علامہ شمس الدین نے فضل الرحمان کی ماضی کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ ماضی میں بے نظیر بھٹو کے قدموں میں جا بیٹھا اور پھر اسی کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔
یہ پرویز مشرف کے قدموں میں جا بیٹھا اور مفاد ختم ہوتے ہی اسی کے خلاف صف آرا ہو گیا،فضل الرحمان کی تمام تر سیاست صرف اور صرف مال اور مفاد کے گرد گھومتی ہے۔
جھونپڑی سے محلات تک کا سفر، ملک بھر میں عوام کا شدید غصہ
دوسری جانب فضل الرحمان کی جانب سے ریاست مخالف بیانیے اور ریاست نے مجھے کیا دیاجیسے بیانات پر ملک بھر کے مختلف علاقوں کے شہریوں میں شدید غم و غصہ اور اشتعال پایا جاتا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ جس شخص نے ایک معمولی جھونپڑی سے سفر شروع کر کے آج اربوں روپے کے محلات بنا لیے ہیں، اسے یہ محلات اور مراعات اسی ریاست نے دی ہیںشہریوں کے مطابق ریاست پاکستان سے مراعات حاصل کرنے کے بعد اسی ریاست کے خلاف زبان درازی کرنا انتہائی شرمناک اور نمک حرامی کے مترادف ہے۔
فضل الرحمان اور ان کے بیٹے کے سخت احتساب کا مطالبہ
ملک بھر کے شہریوں نے اعلیٰ حکام اور مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فضل الرحمان اور ان کے بیٹے کے خلاف بے نامی جائیدادوں، مالی بے ضابطگیوں اور ریاست مخالف بیانات پر کڑا احتساب کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی مذہب کا نام استعمال کر کے ملک کو بلیک میل نہ کر سکے۔