ملکی سیاست میں ایک اور شرمناک اور مضحکہ خیز موڑ اس وقت سامنے آیا جب ریاست مخالف زہر اگلنے اور ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر فضل الرحمان کے خلاف ملک بھر کے گلی کوچوں سے عوام کا شدید ردِعمل اور غصہ پھٹ پڑا۔ اپنے سیاہ کرتوتوں، مالی مفادات اور ریاست مخالف بیانیے کی وجہ سے جب فضل الرحمان کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہ رہا اور سیاسی زمین پاؤں تلے نکل گئی، تو بالآخر ان کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے خواجہ سرا میدان میں آ گئے، جس کے بعد نام نہاد قیادت کا تماشہ سرِعام ننگا ہو کر رہ گیا ہے۔
ریاست مخالف بیانات پر عوام کا شدید ردِعمل اور غصہ
گزشتہ دنوں فضل الرحمان کی جانب سے دیے جانے والے غیر ذمہ دارانہ اور ریاست مخالف بیانات نے ملک بھر کے غیور شہریوں میں آگ لگا دی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جس شخص نے ریاست کے ٹکڑوں پر پل کر محلات کھڑے کیے ہوں، آج وہی اقتدار کی ہوس میں اندھا ہو کر ریاست کے خلاف بھونک رہا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے شدید عوامی ردِعمل نے فضل الرحمان کی سیاسی حیثیت کو زمین بوس کر کے رکھ دیا ہے۔ عوام کی طرف سے ملک دشمن بیانیے پر کڑے احتساب کے مطالبے نے فضل الرحمان اور اس کے حواریوں کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔
جب کچھ نہ بچا تو خواجہ سرا میدان میں آ گئے!
عوام کے اس سیلابِ غضب اور سیاسی یتیمی کے عالم میں جب فضل الرحمان کو بچانے کے لیے کوئی سیاسی کارکن یا حمایتی آگے نہ آ سکا، تو ان کی حمایت میں خواجہ سرا میدان میں آ گئے۔ فضل الرحمان کے حق میں خواجہ سراؤں کے لٹکے جھٹکوں اور “میری جان فضل الرحمان” کے نعروں نے اس نام نہاد “مذہبی و سیاسی” جماعت کا جو حشر کیا ہے، اس نے صدیوں کے تمام سیاسی تماشوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
دینی چہرے کا غبارہ پھٹ گیا، سیاست کا ڈراپ سین
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذہب کارڈ کے پیچھے چھپ کر اقتدار کی روٹیاں سیکنے والے فضل الرحمان کا اصل چہرہ اب پوری قوم کے سامنے ننگا ہو چکا ہے۔ عوام کے غصے سے بچنے کے لیے جس انداز میں خواجہ سراؤں کو میدان میں لایا گیا ہے، اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ فضل الرحمان کی سیاست اب آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور ان کے نام نہاد دینی بیانیے کا غبارہ سرِعام پھٹ چکا ہے۔ اس مضحکہ خیز منظر نے ثابت کر دیا ہے کہ اقتدار کے بھوکے اور کرائے کے مہرے اب عبرت ناک انجام سے نہیں بچ سکتے۔
