شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ ، اسد عمر اور مفتاح اسماعیل نے حمایت کر دی

شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ ، اسد عمر اور مفتاح اسماعیل نے حمایت کر دی

  سابق وفاقی وزرا ء اسد عمر اور مفتاح اسماعیل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو معیشت کے لیے مناسب قرار دیا ہے۔ 

دونوں سابق وزرا ء کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں شرح سود میں مزید اضافہ کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

مفتاح اسماعیل کا فیصلے کو دانشمندانہ قرار

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مرکزی بینک کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کو دانشمندانہ اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ  شرح سود میں استحکام کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً بہتر ماحول فراہم کرسکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ، شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ حالات میں شرح سود مزید بڑھائی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ بلند شرح سود سے کاروباری اداروں کے لیے قرض حاصل کرنا مہنگا ہوجاتا ہے جس کے باعث نئی سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کے فیصلے متاثر ہوسکتے ہیں۔

شرح سود میں اضافے سے معاشی سرگرمی متاثر ہونے کا خدشہ

مفتاح اسماعیل کے مطابق پالیسی ریٹ میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا  کہ ایسے وقت میں جب معیشت کو مستحکم رکھنے کی کوششیں جاری ہیں تو شرح سود میں اچانک اضافہ مشکلات میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔

 اسد عمر نے بھی فیصلے کی حمایت کردی

دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔  انہوں نے کہا  کہ موجودہ صورتحال میں مرکزی بینک کو شرح سود میں فوری اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔

اسد عمر  نے کہاکہ  حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر پالیسی ریٹ بڑھانے کا فیصلہ قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کو مزید محدود کرسکتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ اہم عنصر

اسد عمر نے موجودہ معاشی صورتحال میں عالمی تیل کی قیمتوں کو بھی اہم عنصر قرار دیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک پر پڑتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی اعلان، شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل بڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس صورتحال میں مرکزی بینک کے لیے مہنگائی اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج ہے۔

مہنگائی اب بھی بڑا چیلنج

اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی ایک اہم معاشی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اگست میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتیں مہنگائی کے مجموعی رجحان پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ کاروباری شعبے کے اخراجات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

مرکزی بینک کے فیصلے کا معاشی اثر

پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت مرکزی بینک نے شرح سود میں مزید سختی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے کاروباری اور سرمایہ کاری سرگرمیوں کو کچھ سہارا ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے جبکہ مہنگائی کے دباؤ کو بھی مسلسل نظر میں رکھنا ہوگا۔

editor

Related Articles