سعودی عرب پر حملوں کی مذمت، او آئی سی کا سعودی عرب سے مکمل اظہار یکجہتی

سعودی عرب پر حملوں کی مذمت، او آئی سی کا سعودی عرب سے مکمل اظہار یکجہتی

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مکہ مکرمہ مدینہ منورہ کے خطے اور سعودی عرب کے خلاف حوثی گروپ کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ نے کہا ہے کہ مقدس مقامات اور مساجد کی حرمت کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے اور ایسے اقدامات کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مکہ اور مدینہ کے علاقوں میں ہونے والی ان کارروائیوں سے بے گناہ شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہوا، مقدس مقامات اور مساجد کا تقدس متاثر ہوا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ تنظیم نے مقدس مقامات کی حفاظت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے ایسے حملوں کو ناقابل برداشت قرار دیا۔

او آئی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ مقدس مقامات، مساجد اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں اسلامی اقدار، بین الاقوامی اصولوں اور قانون کے منافی ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی اور مستقبل میں ان کی روک تھام کیلئے ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

یہ مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو روکا اور تباہ کیا گیا۔ سعودی اتحاد کے ترجمان کے مطابق ڈرون مکہ کی محدود فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی روک لیا گیا، جبکہ اس کا ملبہ شہر کے جنوب میں گرا۔ سعودی حکام نے مکہ کی سلامتی کو انتہائی حساس معاملہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب حوثی گروپ نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سعودی الزام کی تردید کی ہے۔ اس لیے حملے کے ذمہ داروں سے متعلق سعودی مؤقف اور حوثیوں کی تردید دونوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ تاہم او آئی سی نے اپنے بیان میں حوثی گروپ کی جانب سے مکہ اور مدینہ کے خطے کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کانگریس سے منظور

او آئی سی نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کی۔ تنظیم نے واضح کیا کہ مقدس مقامات کا احترام اور ان کی حفاظت پوری مسلم دنیا کیلئے انتہائی اہم معاملہ ہے۔

او آئی سی کے بیان میں کہا گیا کہ مقدس مقامات کی حرمت پامال کرنے والے اقدامات نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ شہری آبادی کیلئے بھی خطرات پیدا کرتے ہیں۔ تنظیم نے ایسے اقدامات کو روکنے اور خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور خانہ کعبہ جبکہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ واقع ہے اسی لیے ان علاقوں سے متعلق کسی بھی سکیورٹی واقعے پر مسلم دنیا میں فوری طور پر شدید ردعمل سامنے آتا ہے۔

حالیہ واقعے کے بعد سعودی عرب میں سکیورٹی اقدامات بھی مزید اہم ہوگئے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق مکہ، جدہ اور طائف سمیت بعض علاقوں میں مختصر مدت کیلئے سکیورٹی الرٹس جاری کیے گئے تھے، جبکہ سعودی حکام نے شہریوں کو سکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی۔

او آئی سی کی جانب سے مذمت اور سعودی عرب سے اظہار یکجہتی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن سے متعلق علاقائی کشیدگی کے اثرات سعودی سرزمین اور بحیرہ احمر کے سکیورٹی ماحول تک پہنچ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے خطے میں شہریوں، اہم تنصیبات اور سمندری راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔

او آئی سی کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تنظیم مقدس مقامات کی سلامتی اور حرمت کو کسی بھی علاقائی تنازع سے الگ ایک اہم مذہبی اور بین الاقوامی معاملہ سمجھتی ہے۔ تنظیم نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مقدس مقامات کے تحفظ اور ایسے واقعات کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles