وزیراعظم کی جانب سے موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے شروع کی گئی فیول ریلیف اسکیم پر پیٹرول پمپ مالکان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ طریقہ کار پر عملدرآمد کو ناقابلِ عمل قرار دے دیا۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری مشاورت اور اسکیم کے طریقہ کار پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا ہے۔
چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ملک خدا بخش نے عہدیداروں اور ڈیلرز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ڈیلرز سے مشاورت کیے بغیر فیول ریلیف اسکیم تیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلرز عوام کو ریلیف دینے کے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم موجودہ طریقہ کار کے تحت اسکیم چلانا ممکن نہیں، اس لیے اس پر فوری نظرثانی کی جائے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ نظام کے تحت ڈیلرز کے اربوں روپے پھنس سکتے ہیں اور یہ واضح نہیں کہ اس مالی بوجھ کا ازالہ کون کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اسکیم کے عملی طریقہ کار، ادائیگیوں اور ڈیلرز کے سرمائے کے تحفظ کے حوالے سے واضح نظام وضع کرنا ہوگا۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق اہل موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو ماہانہ 20 لیٹر تک جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو ماہانہ 30 لیٹر تک پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جانا ہے۔ سرکاری نظام کے تحت صارفین کو ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن اور بعد ازاں فیول ٹوکن جاری کیا جاتا ہے، جس کی تصدیق پٹرول پمپ پر کی جاتی ہے۔
ملک خدا بخش نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن بڑھا کر 8 فیصد کیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے بجائے ماہانہ بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے ڈیلرز کا ورکنگ کیپیٹل شدید دباؤ کا شکار ہے اور کاروباری معاملات مزید مشکل ہوگئے ہیں۔
وائس چیئرمین انور کمال نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن وزیراعظم کی ریلیف اسکیم کا خیرمقدم کرتی ہے، لیکن اسکیم کے طریقہ کار پر شدید تحفظات ہیں۔ حکومت نے اسکیم بناتے وقت ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا، جبکہ موجودہ طریقہ کار سے ملک بھر کے تقریباً 14 ہزار ڈیلرز کے مالی بحران کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیلرز پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث مالی دباؤ میں ہیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے واجبات کی ادائیگی میں بھی تاخیر ہوتی رہی ہے۔ ایسے میں اگر ریلیف اسکیم کا مالی بوجھ بھی ڈیلرز پر منتقل ہوا تو ان کا کاروباری سرمایہ مزید متاثر ہوسکتا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وعدے کے مطابق ڈیلرز مارجن فوری طور پر 8 فیصد کیا جائے، پیٹرولیم پالیسی سازی میں ڈیلرز ایسوسی ایشن کو نمائندگی دی جائے اور ریلیف اسکیم پر فوری مشاورت کرکے قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
ملک خدا بخش نے کہا کہ ڈیلرز کو خاص طور پر یہ تشویش ہے کہ موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کو سستے پٹرول کی فراہمی کے بعد ڈیلرز کو اس رقم کا معاوضہ کس طریقہ کار کے تحت ملے گا۔ ان کے مطابق حکومت نے اس حوالے سے ابھی تک ایسا طریقہ واضح نہیں کیا جس سے ڈیلرز کو اپنے سرمائے کے تحفظ کا یقین ہوسکے۔
انہوں نے روزانہ بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کو بھی ڈیلرز کیلئے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے پٹرول پمپس کے ورکنگ کیپیٹل پر براہ راست اثر پڑتا ہے، جبکہ موجودہ حالات میں کاروبار کیلئے سرمائے کا انتظام پہلے ہی مشکل ہوگیا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کہا کہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی درآمد، بحری جہازوں کے فریٹ اور انشورنس اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو موجودہ صورتحال میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد اور سپلائی کے حوالے سے ڈیلرز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔
ملک خدا بخش نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بہتر بنانے کیلئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی درآمد کی اجازت دینے کے امکانات پر غور کیا جائے۔ ان کے مطابق اس سے فیول سپلائی کے نظام میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے فیول ریلیف اسکیم کو ملک بھر میں مرحلہ وار نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ رجسٹریشن کا عمل آسان رکھا جائے اور پٹرول پمپس پر اسکیم کے ہموار نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت کے مطابق پٹرول اسٹیشنز کو ریلیف کی رقم 24 گھنٹے کے اندر ادا کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں اسکیم کے ابتدائی نفاذ کے دوران حکومت نے پٹرول پمپس کی نگرانی بھی کی اور اہل صارفین کو سبسڈی والا پٹرول فراہم کیا۔ حکومت نے پٹرول پمپس کو ہدایت کی ہے کہ اہل رجسٹرڈ صارفین کو ریلیف کی فراہمی میں بلاوجہ تاخیر یا انکار کی صورت میں کارروائی کی جاسکتی ہے۔
اب ملک بھر میں اسکیم کے آغاز سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز کے تحفظات سامنے آنے سے حکومت کیلئے اس کے عملی نفاذ کا معاملہ اہم ہوگیا ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے مقصد کے خلاف نہیں، تاہم اسکیم کا مالی اور انتظامی بوجھ ان پر منتقل کیے بغیر ایسا طریقہ کار بنایا جائے جس میں صارف کو فوری ریلیف بھی ملے اور ڈیلرز کا سرمایہ بھی محفوظ رہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری مذاکرات اور مشاورت کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسکیم کو قابلِ عمل بنانے کیلئے ڈیلرز کے تحفظات دور کرنا ضروری ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ملک گیر سطح پر اسکیم کے ہموار اجرا کیلئے اقدامات جاری ہیں۔