حکومتِ پنجاب نے محکمہ خزانہ کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے صوبے میں پیدائش اور اموات کے کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹس مزید 3 برس کے لیے بالکل مفت فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس پر 6 ارب 62 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
پنجاب کے شہریوں کے لیے ایک بڑی اور راحت بخش خبر سامنے آئی ہے۔ پنجاب حکومت نے نادرا اور بلدیاتی دفاتر سے ملنے والے پیدائش اور اموات کے سرٹیفکیٹس کی بلا معاوضہ فراہمی کا سلسلہ جاری رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
مالیاتی تخمینہ اور سالانہ بجٹ
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس عوامی منصوبے پر آئندہ 3 سال میں کل 6 ارب 62 کروڑ روپے کی بھاری رقم خرچ کی جائے گی۔ مالیاتی فارمولے کے تحت منصوبے کے پہلے سال 2 ارب روپے، دوسرے سال 2 ارب 20 کروڑ روپے، جبکہ تیسرے سال 2 ارب 42 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ اس رقم سے بلدیاتی اداروں کو فیسوں کی عدم وصولی سے ہونے والے مالی خسارے کا ازالہ کیا جائے گا۔
محکمہ خزانہ کے اعتراضات اور وزیراعلیٰ کا فیصلہ
اس بجٹ کی منظوری کا مرحلہ کافی دلچسپ رہا۔ محکمہ خزانہ نے امپیکٹ اسیسمنٹ یعنی اثرات کے جائزے کے بغیر مسلسل سبسڈی دینے پر شديد اعتراضات اٹھائے تھے۔ محکمہ خزانہ کا مؤقف تھا کہ پنجاب کے متعدد بلدیاتی ادارے یہ تمام اخراجات اپنے ذاتی وسائل سے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے پورے صوبے میں یکساں سبسڈی دینا مناسب نہیں۔
تاہم وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام پر مالی بوجھ نہ ڈالنے کی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے محکمہ خزانہ کے خدشات کو بالائے طاق رکھ دیا اور محکمہ بلدیات کی جانب سے تجاویز کردہ بجٹ کی منظوری دے دی۔
محکمہ بلدیات کا مؤقف
محکمہ بلدیات نے اس سہولت کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیدائش اور اموات کا اندراج کرنا اور شہریوں کو اس کی دستاویز دینا محض سرکاری آمدن بڑھانے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست کی بنیادی اور آئینی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ شہریوں کو رجسٹریشن کی طرف راغب کرنے کے لیے اس سہولت کو بلا معاوضہ رکھنا ہی واحد حل ہے۔
رجسٹریشن میں ریکارڈ اضافہ
حکومتی اقدام کے نتائج بھی انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سرٹیفکیٹس کی مفت فراہمی کے بعد شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے اندراج کروایا ہے۔ اس سہولت کے نتیجے میں پیدائش کے اندراج میں 4.84 فیصد جبکہ اموات کے اندراج میں 20.35 فیصد کا غیر معمولی اور خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماضی میں شہری، بالخصوص دیہی علاقوں کے رہائشی، فیسوں اور پیچیدہ عمل کی وجہ سے بچوں کی پیدائش اور بالخصوص گھر کے افراد کی اموات کا بروقت اندراج نہیں کرواتے تھے۔ اس سے حکومتی ڈیٹا بیس میں شدید نقائص پیدا ہو رہے تھے اور وراثتی مسائل بھی جنم لیتے تھے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے پنجاب حکومت نے کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹس کی فیس ختم کرنے کا تجربہ کیا تھا، جو بیوروکریسی کے خدشات کے برعکس انتہائی کامیاب ثابت ہوا۔
واضح رہے کہ محکمہ خزانہ کے تحفظات مالیاتی نظم و ضبط کے لحاظ سے درست ہو سکتے ہیں، لیکن ایک فلاحی ریاست کی تعمیر میں یہ لاگت اصل میں سرمائے کا بہترین استعمال ہے۔
اموات کے اندراج میں 20.35 فیصد کا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مالی بوجھ ختم ہونے سے لوگوں نے قانونی تقاضے پورے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ درست ڈیٹا بیس کے بغیر حکومت تعلیم، صحت اور راشن کی درست منصوبہ بندی نہیں کر سکتی۔ 6 ارب 62 کروڑ روپے کا یہ خرچ طویل المدتی بنیادوں پر پنجاب کے منصوبہ بندی کے نظام کو مضبوط اور شفاف بنائے گا۔