امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا ہے۔ جولائی 2023 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی شرح سود میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تازہ فیصلے کے بعد فیڈرل فنڈز کی شرح 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں پہنچ گئی ہے۔
مہنگائی اب بھی بڑا چیلنج
فیڈرل ریزرو کے مطابق امریکی معیشت میں معاشی سرگرمیاں مستحکم رفتار سے جاری ہیں جبکہ ملکی اخراجات میں بھی لچک برقرار ہے۔ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ سرمایہ کاری بھی مضبوط رہی ہے تاہم افراط زر اب بھی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے بلند ہے۔
یہ بھی پڑھیں :امریکی ڈالر بری طرح گر گیا ، جاپانی کرنسی 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب، مارکیٹ میں نئی ہلچل
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے کہا ہے کہ مہنگائی کو 2 فیصد کے ہدف تک واپس لانا مرکزی بینک کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق شرح سود میں اضافہ مہنگائی کو مقررہ ہدف کی جانب واپس لانے میں مدد دے سکتا ہے۔
امریکی بانڈ مارکیٹ میں بھی تبدیلی
شرح سود میں اضافے کے بعد امریکی بانڈ مارکیٹ میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 5 فیصد کی سطح تک پہنچ گئی۔
شرح سود میں تبدیلی کا اثر قرضوں، سرمایہ کاری اور مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم مختلف شعبوں پر اس کے اثرات کا انحصار مجموعی معاشی صورتحال اور آئندہ مالیاتی پالیسی پر ہوگا۔
ٹرمپ شرح سود کم رکھنے کے خواہاں
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے فیصلے سے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں شرح سود ایک فیصد یا اس سے بھی کم ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :مہنگائی یا شرح سود،سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا


