وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ یا دیگر مقدس مقامات کو خطرہ لاحق ہو تو ان کے تحفظ کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں، مقدس مقامات کی حفاظت ہمارا فریضہ ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان پر لاگو ہوتا ہے اور پاکستان اپنے فرائض ادا کرے گا،انہوں نے کہا کہ وہ معاہدے سے متعلق تمام تفصیلات بیان نہیں کرسکتے، تاہم پاکستان مکہ معاہدے پر عملدرآمد کا پابند ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر مکہ مکرمہ پر حملہ ہوتا ہے تو مقدس شہر کے تحفظ کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہوگی،خواجہ آصف نے کہا کہ مکہ معاہدہ نہ بھی ہو تو مقدس مقامات کی حفاظت پاکستان کا فریضہ ہےاب وہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں مکہ معاہدہ نافذ ہونا ہے۔
ایران کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران بطور ریاست خطے میں کوئی نیا محاذ کھولے گاان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کا پیغام ایران تک پہنچایا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کردیا تھا،سعودی فوجی اتحاد کے مطابق ڈرون کو مکہ کے گرد ممنوع فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی نشانہ بنایا گیا،سعودی حکام نے دونوں مقدس مساجد کے تحفظ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کے خلاف ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
سعودی اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش تھی اس سے قبل جولائی 2017 میں بھی مکہ کی جانب بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا،اس سے قبل سعودی عرب کے شہروں جازان، ابہا اور خمیس مشیط میں حملے کے خدشے کے پیش نظر سائرن بھی بجائے گئے تھے، تاہم کچھ دیر بعد وارننگ واپس لے لی گئی۔