اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آگ لگنے کے ہولناک واقعے میں نرس کی مدد سے زندہ بچ جانے والی واحد بچی ایزل بھی کئی روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد انتقال کرگئی۔
نرس نے دھویں سے متاثرہ بچی کو بچایا تھا
پمز اسپتال میں آگ لگنے کے دوران متعدد بچے جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ ایزل کو نرس نے بروقت نکال کر بچا لیا تھا۔ بعد ازاں دھویں سے متاثر ہونے والی بچی کو انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کیا گیا جہاں وہ زیر علاج رہی۔
بچی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی رہی تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکی۔
والدہ نے بیٹی کی تکلیف بیان کردی
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایزل کی والدہ آصفہ بی بی نے بتایا کہ ان کی بیٹی 6 ماہ اور 10 دن کی تھی۔ والدہ کے مطابق ایزل 12 اگست کو پیدا ہوئی تھی اور وہ ان کی پہلی اولاد تھی۔
آصفہ بی بی کا کہنا تھا کہ آگ کے دوران دھویں نے ان کی بچی کو متاثر کیا۔ ننھی ایزل کو بچانے کی کوشش کی گئی اور اسے طبی امداد بھی فراہم کی گئی تاہم وہ زندگی کی جنگ ہار گئی۔
سانحے نے ایک اور خاندان اجاڑ دیا
پمز اسپتال میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک ہی وقت میں کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کردیا تھا۔ ایزل ان بچوں میں واحد بچی تھی جو ابتدائی طور پر اس سانحے میں زندہ بچ گئی تھی۔ اس کے انتقال کے بعد اس واقعے کی المناکی مزید بڑھ گئی ہے۔
ننھی ایزل کے والدین کے لیے یہ صدمہ اس لیے بھی گہرا ہے کہ وہ ان کی پہلی اولاد تھی اور چند ہی ہفتوں کی زندگی کے بعد دنیا سے رخصت ہوگئی۔
اس واقعے نے اسپتالوں میں بچوں کے لیے حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایسے واقعات میں آگ لگنے کی صورت میں فوری انخلا، دھویں سے بچاؤ اور انتہائی نگہداشت میں موجود بچوں کی حفاظت کے انتظامات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایزل کی موت نے پمز سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے خاندانوں کے دکھ میں ایک اور دردناک باب کا اضافہ کردیا ہے۔