ایران نے سفارتی حل کی حمایت کردی،قومی خودمختاری پر دوٹوک مؤقف

ایران نے سفارتی حل کی حمایت کردی،قومی خودمختاری پر دوٹوک مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے تیار ہے تاہم اپنی قومی خودمختاری اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

چین میں وانگ یی سے اہم ملاقات

عباس عراقچی نے یہ بات چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام کی بحالی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کا ایران کیخلاف معاشی جنگ کا اعلان امریکا کیلئے مزید شکست کا باعث بنےگا ، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران سفارتی راستے کو اہمیت دیتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ایران نے خطے میں امن و امان کی بحالی کے مقصد سے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے۔

پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات کا عزم

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں امن کی بحالی کے ساتھ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ اور پُرامن تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ  تہران کی کوشش ہے کہ علاقائی مسائل کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے مشترکہ راستے تلاش کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایرانی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا ،سفارتی حل کے لیے آمادگی کا مطلب قومی خودمختاری سے دستبرداری نہیں ہے۔

خودمختاری کا دفاع جاری رکھنے کا اعلان

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری کا دفاع جاری رکھے گا۔ ان کے بیان میں سفارتی کوششوں اور قومی مفادات کے تحفظ دونوں کو ساتھ لے کر چلنے پر زور دیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ترک ہم منصب سے رابطہ، اہم امور پر گفتگو

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ امن اور سفارتی حل کے لیے تیار ہے لیکن اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کے اصول پر قائم رہے گا۔

editor

Related Articles