جہاز  سے بڑی تکلیف ہورہی ہے،وہ میرا نہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کا ہے،ہر وزیراعلیٰ کے پاس سرکاری طیارہ،تنقید مجھ پر ہوتی ہے، مریم نواز

جہاز  سے بڑی تکلیف ہورہی ہے،وہ میرا نہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کا ہے،ہر وزیراعلیٰ کے پاس سرکاری طیارہ،تنقید مجھ پر ہوتی ہے، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لندن کے دورے کے لیے استعمال کیے گئے سرکاری طیارے کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری طیارہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے استعمال کے لیے ہے ان کا کہنا تھا کہ تنقید جہاز پر نہیں بلکہ پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی کاموں پر کی جا رہی ہے۔

پونے 3 کروڑ روپے ادا

 وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے لندن کے دورے کے لیے سرکاری طیارے کے استعمال کے اخراجات پنجاب حکومت کو واپس ادا کر دیے گئے ہیں، ان کی جانب سے 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے جمع کرائے گئے۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر رقم جمع کرائے جانے کی تصدیق کی، ان  کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے سرکاری طیارے کے استعمال کے تمام اخراجات ادا کر دیے ہیں جبکہ جمع کرایا گیا چیک آئندہ روز کیش ہو جائے گا۔

جہاز وزیراعلیٰ کا ہے، میرا نہیں

ملتان میں الیکٹرک بس سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ پنجاب نے دوسرے صوبوں کا حق کھا لیا، حالانکہ پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا بلکہ اپنے حصے سے دوسروں کو دیتا رہا ہے۔

انہوں نے سرکاری طیارے کے استعمال پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں 9 ارب روپے کے جہاز سے تکلیف ہے، لیکن یہ جہاز ان کا ذاتی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کا طیارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ جہاز اپنے گھر لے کر نہیں جائیں گی۔

تنقید جہاز پر یا کاموں پر؟

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سیلاب کے دوران وہ متاثرین تک کشتیوں کے ذریعے بھی پہنچی ہیں۔ ان کے مطابق ہر وزیراعلیٰ کے پاس سرکاری طیارے کی سہولت موجود ہے لیکن تنقید صرف انہیں نشانہ بنا کر کی جاتی ہے،مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں تنقید کرنے والوں کو سرکاری جہاز سے زیادہ ان کے کاموں سے مسئلہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لندن جانے کی ایک وجہ ان کی صاحبزادی کی گریجویشن تقریب میں شرکت بھی تھی، مریم نواز کے مطابق سرکاری طیارے کے استعمال کے عوض تقریباً پونے 3 کروڑ روپے انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے معاملے پر بھی بیان

مریم نواز نے خیبر پختونخوا سے آنے والے افراد کے حوالے سے بھی گفتگو کی، ان کا کہنا تھا کہ چند افراد پنجاب پر حملہ کرنے کے لیے آئے تھے جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تماشا لگانے کے لیے زبردستی پولیس کی گاڑی میں بیٹھ گئے،وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا سے آنے والوں کا لاہور کا دورہ ناکام رہا۔

ملتان میں 20 روپے کرایہ

الیکٹرک بس سروس کے حوالے سے مریم نواز نے بتایا کہ عام مسافروں کے لیے کرایہ صرف 20 روپے مقرر کیا گیا ہے، خواتین، طلبا و طالبات، معذور افراد اور 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کو مفت سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ گرین بس سروس کو پنجاب کی آخری حدود تک پھیلایا جا رہا ہے تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو جدید، محفوظ اور کم خرچ سفری سہولت میسر آسکے۔

خواتین اورخصوصی افراد کے لیے سہولیات

مریم نواز نے کہا کہ ملتان کے تمام روٹس پر گرین الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی، خصوصی افراد کے لیے بسوں میں وہیل چیئر اور ریمپ کی سہولت رکھی گئی ہے جبکہ خواتین کے تحفظ کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ پنجاب میں رہنے والا ہر شخص ان کی ذمہ داری ہے اور ان کی حکومت میں کسی شخص کو بس کی چھت پر سفر نہیں کرنا پڑے گا۔

کینسر کے علاج کی جدید مشین

وزیراعلیٰ پنجاب نے صحت کے شعبے میں بھی مختلف اقدامات کا ذکر کیا، ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے میو اسپتال میں جدید کینسر ٹریٹمنٹ مشین چین سے لائی گئی جبکہ ملتان میں بھی دوسری مشین کا افتتاح کیا گیا ہے۔

مریم نواز کے مطابق اس جدید مشین سے اب تک دو خواتین کا علاج کیا جا چکا ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ ان خواتین سے ملاقات اور ان کا انٹرویو بھی کر کے آئی ہیں اور دونوں کا علاج تقریباً 45 منٹ میں مکمل ہوا۔

editor

Related Articles